صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 12
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر مَنْ يُرْفَعُ رَأْسَهُ بَعْدَ النَّفْحَةِ الْآخِرَةِ حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى مُتَعَلِّق بِالْعَرْشِ فَلَا روایت کی۔آپ نے فرمایا: میں پہلا ہوں گا جو أَدْرِي أَكَذَلِكَ كَانَ أَمْ بَعْدَ النَّفْخَةِ دوسری دفعہ صور پھونکنے کے بعد اپنا سر اٹھائے گا۔کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ ہیں جو عرش کو تھامے کھڑے ہیں۔میں نہیں جانتا آیا وہ اسی طرح (پہلے سے) تھے یا اس نفخ کے بعد (اس حالت میں ہوئے۔) أطرافه : ۲٤۱۱، ٣٤۰۸، ٣٤١٤ ،٦٥۱۷ ،٦٥۱۸، ٧٤٢٨، ٧٤٧٢- ٤٨١٤: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۳۸۱۴: عمر بن حفص بن غیاث) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔(انہوں سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نے کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ابوصالح سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ حضرت ابوہریرہ سے سنا۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَرْبَعُونَ۔قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ سے روایت کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: ان دو يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةٌ تنخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہو گا۔لوگوں قَالَ أَبَيْتُ قَالَ أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ نے کہا: ابوہریرہ چالیس دن کا ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا: میں نہیں بتا سکتا۔پھر انہوں نے پوچھا: إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ فِيهِ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ چالیس سال کا؟ انہوں نے کہا: میں نہیں بتا سکتا۔أَبَيْتُ وَيَبْلَى كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ انہوں نے کہا: چالیس مہینے کا؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا: میں نہیں بتا سکتا اور انسان کی ہر شے بوسیدہ ہو جائے گی سوائے اس کی ریڑھ کے آخری سرے کے۔اسی سے (قیامت کے دن ) ڈھانچہ ترکیب دیا جائے گا۔طرفه: ٤٩٣٥۔