صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 322
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۲ ۶۵ - كتاب التفسير / المدثر و الرجزَ فَاهْجُرُ : اور شرک کو مٹاڈال۔دُجز ”ر“ کی ضمہ کے ساتھ ہو تو معنی شرک کے ہیں۔جبکہ رجز یعنی ”ر“ کی کسرہ سے ہو تو اس کے معنی عذاب کے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قم فَانْذِرُه وَرَبَّكَ فَكَبَرُ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُه (المدثر : ٣-٦) جلال خدا کہ بتاں را داده شد بازستان و جلال الہی ظاہر کن در میں اشارت است که بر دست او بتاں مقہور خواهند شد و جلال و عظمتِ الہی ظاہر خواہد شد و از پلیدی با جدا باش۔ایں اشارت است سوئے اینکه از ہر قسم پلیدی دور باید ماند و نیز سوئے این اشارت است که خدا اراده فرموده است که از صحبت مشرکاں کہ نجس اند ترا جدا کند و شرک را از زمین مکه بر دارد و جامہ ہائے خود را و دل خود را پاک کن ثوب بمعنی دل نیز آمده) این اشارت است سوئے اینکه خدا اراده فرموده است کہ دلہا را از ہر قسم شرک و ظلم والتفات الى ماسوی اللہ پاک کند و نیز ایں ہم دریں آیت با اشاره می کنند که این شریعت بریں ہمہ اجزا مشتمل است Lo لية النور ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وَالرّجزَ فَاهْجُرُ (المدثر : 1 ) یعنی "ہر ایک پلیدی سے جُدارہ “ یہ احکام اسی لئے ہیں کہ تا انسان حفظانِ صحت کے اسباب کی رعایت رکھ کر اپنے تئیں جسمانی بلاؤں سے بچاوے۔عیسائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ یہ کیسے احکام ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے کہ قرآن کہتا ہے کہ تم غسل کر کے اپنے بدنوں کو پاک رکھو اور مسواک ان آیات میں اشارہ ہے کہ آپ کے ہاتھ پر بت مقہور ہوں گے اور جلال اور عظمت الہی ظاہر ہو گی اور آپ پلیدی سے الگ ہو جائیں۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اِس طرف آنے کے لئے ہر قسم کی پلیدی دُور ہونی چاہیئے۔نیز اس طرف اشارہ ہے کہ خدا نے ارادہ فرمایا ہے مشرکوں کی مجلس سے کہ جو ناپاک ہیں تجھے الگ کر دیں گے اور مکہ کی سر زمین سے شرک مٹادیا جائے گا۔اور اپنے لباس اور دل کو پاک کر (ثوب کے معنی دل کے بھی ہیں ) میں یہ اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دلوں کو ہر قسم کے شرک، ظلم اور غیر اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے پاک کر دیا جائے گا۔نیز ان آیات میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ شریعت ان تمام اجزاء پر مشتمل ہے۔(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، جلد ۴ صفحه ۴۹۶)