صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 321
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۱ ۶۵ - كتاب التفسير / المدثر مُحَمَّد صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح البیان) یہ پہلی سورۃ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی روایت ہے۔جمہور کا مذہب یہی ہے کہ یہ پہلی سورۃ ہے جو قرآن کریم میں سے نازل ہوئی۔اس کے بعد نون والقلم نازل ہوئی پھر مزمل نازل ہوئی اور پھر مد ثر نازل ہوئی۔(فتح البیان)۔اور بخاری کی روایت سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اقرا کے بعد مدثر نازل ہوئی۔لیکن یہ اختلاف حقیقی نہیں در حقیقت ایک امر کے نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ اختلاف پیدا ہوا ہے۔لوگ عام طور پر خیال کرتے ہیں کہ اقرا بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ کے بعد فترة وحی ہوئی ہے حالانکہ جو حدیث بخاری میں بیان ہوئی ہے اس سے یہ پتہ نہیں لگتا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اس کے کچھ عرصہ بعد ورقہ بن نوفل فوت ہوئے اور پھر فترة کا زمانہ آگیا۔درمیانی عرصہ کا اس حدیث میں ذکر نہیں کیا گیا۔فترة وحی چونکہ ایک اہم مسئلہ تھا اس لئے اس کا ذکر کر دیا گیا مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اقرا کے بعد فترة ہوئی ہے بلکہ اقرا کے بعد کچھ اور کلام نازل ہو ا تھا اور اس کے بعد فترة ہوئی ہے اور یہی بات قرین قیاس بھی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُه (العلق:۲-۶) تو اس میں تو کوئی حکم بیان نہیں ہوا پھر کیا حکم دیا تھا جس کے متعلق اقرا کہا گیا تھا۔اقرأ کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ کوئی باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہنی ہیں۔وہ کہنے والی باتیں بہر حال اقرا کے بعد نازل ہونی چاہئے تھیں۔چنانچہ اقرا کے بعد نون والقلم نازل ہوئی اس کے بعد سورۃ مزمل نازل ہوئی اور پھر فترة کا زمانہ آگیا۔پس میرے نزدیک اصل واقعہ یہ ہے کہ اقرا کی ابتدائی آیات اور اسی طرح نون والقلم اور سورۃ المزمل کی کچھ آیات پہلے نازل ہو ئیں پھر فترة وحی ہوئی اور اس کے ختم ہونے پر سورۃ المد شر نازل ہوئی۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ العلق، آیت نمبر ا، جلد ۹ صفحه ۲۲۳، ۲۲۴)