صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 323
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۳ ۶۵ - كتاب التفسير / المدثر کرو، خلال کرو اور ہر ایک جسمانی پلیدی سے اپنے تئیں اور اپنے گھر کو بچاؤ اور بد بوؤں سے دُور رہو اور مُردار اور گندی چیزوں کو مت کھاؤ۔اِس کا جواب یہی ہے کہ قرآن نے اُس زمانہ میں عرب کے لوگوں کو ایسا ہی پایا تھا اور وہ لوگ نہ صرف رُوحانی پہلو کے رُو سے خطر ناک حالت میں تھے بلکہ جسمانی پہلو کے رُو سے بھی اُن کی صحت نہایت خطرہ میں تھی۔سو یہ خدا تعالیٰ کا اُن پر اور تمام دنیا پر احسان تھا کہ حفظانِ صحت کے قواعد مقرر فرمائے۔یہاں تک کہ یہ بھی فرما دیا کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَ لَا تُسْرِفُوا (الاعراف: ۳۲) یعنی بے شک کھاؤ پیو مگر کھانے پینے میں بے جا طور پر کوئی زیادت کیفیت یا کمیت کی مت کرو۔افسوس پادری اس بات کو نہیں جانتے کہ جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گر کر رُوحانی پاکیزگی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔مثلاً چند روز دانتوں کا خلال کرنا چھوڑ دو جو ایک ادنی صفائی کے درجہ پر ہے تو وہ فضلات : ات جو دانتوں میں پھنسے رہیں گے اُن میں سے مُردار کی بُو آئے گی۔آخر دانت خراب ہو جائیں گے اور اُن کا زہریلا اثر معدہ پر گر کر معدہ بھی فاسد ہو جائے گا۔خود غور کر کے دیکھو کہ جب دانتوں کے اندر کسی بوٹی کارگ وریشہ یا کوئی مجز پھنسارہ جاتا ہے اور اُسی وقت خلال کے ساتھ نکالا نہیں جاتا تو ایک رات بھی اگر رہ جائے تو سخت بد بو اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایسی بدبو آتی ہے جیسا کہ چوہا مرا ہوا ہوتا ہے۔پس یہ کیسی نادانی ہے کہ ظاہری اور جسمانی پاکیزگی پر اعتراض کیا جائے اور یہ تعلیم دی جائے کہ تم جسمانی پاکیزگی کی کچھ پرواہ نہ رکھونہ خلال کرو اور نہ مسواک کرو اور نہ کبھی غسل کر کے بدن پر سے میل اتارو اور نہ پاخانہ پھر کر طہارت کرو اور تمہارے لئے صرف روحانی پاکیزگی کافی ہے۔ہمارے ہی تجارب ہمیں بتلا رہے ہیں کہ ہمیں جیسا کہ روحانی پاکیزگی کی روحانی صحت کے لئے ضرورت ہے ایسا ہی ہمیں جسمانی صحت کے لئے جسمانی پاکیزگی کی ضرورت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہماری جسمانی پاکیزگی کو ہماری روحانی پاکیزگی میں بہت کچھ دخل ہے۔کیونکہ جب ہم جسمانی پاکیزگی کو چھوڑ کر اس کے بد نتائج یعنی