صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 320
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۲۰ -۶۵ - كتاب التفسير / المدثر بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي میں چلا جارہا تھا تو میں نے آسمان سے ایک آواز جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيَ بَيْنَ سی۔میں نے اپنی نگاہ جو آسمان کی طرف کی۔کیا السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجَيْقْتُ مِنْهُ حَتَّى دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس حمرا هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِی میں آیا۔آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر فَقُلْتُ زَمِلُونِي زَمَلُونِي فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ بیٹھا ہے۔میں اس سے اتنا سہم گیا کہ زمین پر گر اللهُ تَعَالَى يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِرُه قُم فَانْذِرُ پڑا۔میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا: مجھے آیا کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔انہوں نے إِلَى قَوْلِهِ فَاهْجُرُ ) المدثر : ٢ (٦ مجھے کمبل اوڑھا دیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَالرّجْزَ الْأَوْثَانَ ثُمَّ كى: يَايُّهَا الْمُدَّقِّرُ ابوسلمہ نے کہا: رجز سے حَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ۔مراد بت ہیں۔پھر اس کے بعد وحی خوب گرم ہو گئی اور پے در پے آنے لگی۔أطرافه ،٤ ، ،۳۲۳۸ ، ٤٩۲۲ ، ٤۹۲۳، ٤۹۲٤، ٤٩٢٥، ٤٩٥٤، ٦٢١٤ - شریح، مذکورہ بالا ابو اب کے تحت جو روایات بیان کی گئی ہیں ان کو دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علماء میں اس بات پر اختلاف ہوا کہ پہلی وحی کونسی تھی جس کا نزول ہوا۔سورۃ اقْرَأْ بِاسْم رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ یا پھر یا يُّهَا المُدَّ قُرُ؟ امام بخاری نے اپنے استاد ابن شہاب محمد بن مسلم زہری کی سند پر اس اختلاف کو یوں حل کیا ہے کہ اقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ زمانہ نبوت کے ابتداء میں پہلی وحی ہے اور یایھا المد قد زمانہ فترت کے بعد پہلی وحی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ابن کثیر کہتے ہیں: فَأَوّلُ شَيْءٍ نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَاتُ الْكَرِيمَاتُ الْمُبَارَكَاتُ، وَهُنَّ أَوّلُ رَحْمَةٍ رَحِمَ اللهُ بِهَا الْعِبَادَ وَأَوَّلُ نِعْمَةٍ أَنْعَمَ اللهُ بِهَا عَلَيْهِمْ۔یعنی یہ قرآن کریم کی پہلی بزرگ اور مبارک آیات ہیں جو رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں۔یہ پہلی رحمت ہیں جس کے ذریعہ اللہ تعالے نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا اور پہلی نعمت ہیں جس کے ذریعہ اس نے اپنے فضل سے اُنہیں سرفراز فرمایا۔۔ابن عباس کہتے ہیں: هِيَ أَوَّلُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ ( فتح البیان) یہ قرآن میں سے پہلا حصہ ہے جو نازل ہوا۔ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں : هَذِهِ أَوَّلُ سُوْرَةٍ أُنْزِلَتْ عَلَى