صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 319
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۱۹ ۶۵ - کتاب التفسير / المدثر عَلَى كُرْسِيِّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ آسمان سے ایک آواز سنی تو میں نے سر اٹھایا۔ کیا فَجَتَفْتُ مِنْهُ رُعْبًا فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ دیکھتا ہوں وہی فرشتہ ہے جو میرے پاس حراء میں زَمِّلُونِي زَمِلُونِي فَدَبَّرُونِي فَأَنْزَلَ اللهُ آیا تھا۔ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تَعَالَى: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ إِلَى وَالرُّجْزَ ہے۔ میں اس کے رعب سے سہم گیا اور واپس فَاهْجُرُ (المدثر : ٢ - ٦) قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ لوٹ گیا۔ میں نے کہا: مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا۔ اور الصَّلَاةُ وَهِيَ الْأَوْثَانُ۔ لی نے یہ وحی نازل کی: يَايُّهَا المُدير اللہ تعالیٰ نے یہ و (اور یہ ) نماز فرض کئے جانے سے پہلے ( کا واقعہ ہے۔) اور اس (رجز) سے مراد بت ہیں۔ أطرافه: ٤ ، ۳۲۳۸، ۱۹۲۲ ، ٤٩٢٣۳، ٤٩٢٤ ، ٤٩٢٦، ٤٩٥٤، ٦٢١٤۔ بابه : وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (المدثر : ٦ ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور شرک کو مٹاڈال يُقَالُ الرِّجْزُ وَالرِّجْسُ الْعَذَابُ۔ رجز اور رجس ( کی کسرہ کے ساتھ) عذاب کو کہا جاتا ہے۔ ٤٩٢٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۴۹۲۶ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ قَالَ ابْنُ که لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شِهَابٍ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عقیل سے روایت کی۔ ابن شہاب نے کہا: میں نے جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ابو سلمہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: مجھے حضرت جابر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنْ بن عبد اللہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ وحی کے موقوف سَمِعْتُ صَوْتًا مِّنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ ہونے کے متعلق بیان فرمارہے تھے کہ ایک بار رح وو ا ترجمه حضرت خليفة الله ضرت خلیفة المسیح الرابع : " اسے کپڑا اوڑھنے والے اٹھ کھڑا ہو اور انتباہ کرے اور اپنے رب ہی کی بڑائی بیان کر۔ اور جہاں تک تیرے کپڑوں (یعنی قریبی ساتھیوں) کا تعلق ہے تو (انہیں) بہت یا کا ہے بہت پاک کریں اور جہاں تک ناپاکی کا تعلق ہے تو اس سے کلیہ الگ رہ۔“