صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 318
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۱۸ ۶۵ - کتاب التفسير / المدثر وَعَنْ شِمَالِي فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى وادی کے نشیب میں پہنچا تو مجھے بلایا گیا۔ میں نے عَرْشِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَأَتَيْتُ اپنے آگے اور اپنے پیچھے اور اپنے دائیں اور بائیں خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَبِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ نگاہ کی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ (فرشتہ) آسمان اور مَاءً بَارِدًا وَأُنْزِلَ عَلَيَّ يَأَيُّهَا زمین کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں الْمُدَّخِرُ قُمْ فَانْذِرُ وَرَبَّكَ فَكَيْرُ خدیجہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: مجھے کپڑا اوڑھا دو اور ٹھنڈا پانی مجھ پر ڈالو۔ اور مجھ پر یہ وحی نازل (المدثر : ٢ - ٤) کی گئی: اے کپڑا اوڑھنے والے، اُٹھ اور خطرے سے آگاہ کر۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ أطرافه ٤ ، ۳۲۳۸ ، ٤۹۲۲ ، ٤٩٢٣، ٤٩٢٥ ، ٤٩٢٦، ٤٩٥٤، ٦٢١٤۔ باب ٤ : وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ ( المدثر : ٥) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) اور اپنے پاس رہنے والے لوگوں کو پاک کر ٤٩٢٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۴۹۲۵: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ ( بن سعد ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عقیل عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ شِهَابٍ ۔ ہے، و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا نیز عبد الله بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کہا :) معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:) ابو سلمہ بن عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد الرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ فَقَالَ کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللوم سے سنا۔ فِي حَدِيثِهِ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ اور آپ وحی کے موقوف ہونے کے متعلق بیان صَوْتًا مِّنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فرمارہے تھے۔ آپؐ نے اپنے بیان میں یہ فرمایا: الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ ایک بار میں چلا جا رہا تھا کہ اتنے میں میں نے