صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 11
۶۵ - کتاب التفسير / الزمر صحیح البخاری جلد ۱۲ يمن المُلْكُ الْيَوْمَ لِلهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المؤمن: ۱۷) یعنی خدا تعالٰی اپنی قہری تجلی سے ہر یک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانت دکھلائے گا اور خدا تعالیٰ کے وعدوں سے مراد یہ بات نہیں کہ اتفاقاً کوئی بات منہ سے نکل گئی اور پھر ہر حال گلے پڑاڈھول بجانا پڑا کیونکہ اس قسم کے وعدے خدائے حکیم و علیم کی شان کے لائق نہیں یہ صرف انسان ضعیف البنیان کا خاصہ ہے جس کا کوئی وعدہ تکلف اور ضعف یا مجبوری اور لاچاری کے موانع سے ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔اور با ایں ہمہ تقریبات اتفاقیہ پر مبنی ہوتا ہے نہ علم اور یقین اور حکمت قدیمہ پر۔مگر خدا تعالیٰ کے وعدے اس کی صفات قدیمہ کے تقاضا کے موافق صادر ہوتے ہیں اور اس کے مواعید اس کی غیر متناہی حکمت کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۱۵۰ تا ۱۵۵) باب ٤ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّبُوتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ أُخْرَى فَإِذَاهُمْ قِيَام تَنْظُرُونَ (الزمر : ٦٩) اور بگل میں پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے اس پر ایک بے ہوشی طاری ہو جائے گی سوائے اس (شخص) کے جس کو اللہ چاہے گا کہ بچالے) پھر دوسری دفعہ بگل میں پھونکا جائے گا اور اچانک وہ سب ( اپنے متعلق فیصلہ کا) انتظار کرتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔بتایا۔٤٨١٣ : حَدَّثَنِي الْحَسَنُ حَدَّثَنَا ۴۸۱۳: حسن ( بن شجاع بلخی) نے مجھے إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ اسماعيل بن خلیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحیم عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ عَامِرٍ ( بن سليمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زکریا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ بن ابي زائدہ سے، زکریا نے عامر (شعی) سے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي أَوَّلُ عامر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " آج کے دن بادشاہت کس کی ہے؟ اللہ ہی کی ہے جو اکیلا ( اور ) صاحب جبروت ہے۔"