صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 315
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۱۵ ۶۵ - كتاب التفسير / المدثر وقت اس کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح ہر صادق کے مقابلہ میں گدھوں کی طرح مخالفوں کا سخت غیظ و غضب ہوتا ہے۔ جہاں سخت مخالفت ہوتی ہے اس کے بالمقابل حق ضرور ہوتا ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۲۶۵) قَسُورۃ کے معنی ہیں شیر ۔ فرماتا ہے : فَرَّتْ مِنْ قَسُورَةٍ (المدثر : ۵۲) شیر ببر سے (ڈر کر) دوڑ رہے ہوں۔ (ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع ) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قَسْوَرَةٍ - قسر سے مشتق ہے جس کے معنے قہر اور غلبہ کے ہیں۔ اہل عرب بولا کرتے ہیں: لُيُون قَسَاوِرَة لُيُوث جمع لَيْٹ کی ہے۔ لیٹ بمعنی شیر ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : الْقَسْوَرَةُ هِيَ الْأَسَد قسورة ان تیر اندازوں کی جماعت کو بھی کہتے ہیں جو جنگلی گدھوں کا شکار کرتی ہیں۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۲۶۵) باب ۱ ٤٩٢٢ : حَدَّثَنِي يَحْيَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ۴۹۲۲: یحی ( بن موسیٰ بلخی ) نے مجھ سے بیان کیا عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ کہ کیچ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علی بن مبارک أَبِي كَثِيرٍ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ سے، علی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابو سلمہ بن الْقُرْآنِ قَالَ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِرُ ۔ عبد الرحمن سے قرآن کی اس آیت کے متعلق پوچھا (المدثر: ٢) قُلْتُ يَقُولُونَ اِقْرَأْ بِاسْمِ جو پہلے اتری۔ انہوں نے کہا: یا تھا امید میں المدير۔ نے کہا : (لوگ) کہتے ہیں: اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (العلق: ٢) فَقَالَ أَبُو خلق۔ ابو سلمہ نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سَلَمَةَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا۔ اور رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ وَقُلْتُ لَهُ میں نے بھی ان سے ویسے ہی کہا جو تم نے کہا، تو مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ فَقَالَ جَابِرٌ لَا حضرت جابرؓ نے جواب دیا: میں تم سے وہی بیان أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ کروں گا جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں حرا میں گوشہ نشین