صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 314
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۱۴ ۶۵ - کتاب التفسير / المدثر ٧٤- سُورَةُ المُدير بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ عَسِيرُ ( المدثر : ۱۰) حضرت ابن عباس نے کہا: عیسیڈ کے معنی ہیں شَدِيدٌ۔قَسُورة المدثر : ٥٢) رِكْزُ سخت قَسُورۃ کے معنی ہیں لوگوں کا شور وغل۔النَّاسِ وَأَمْوَاتُهُمْ وَكُلُّ شَدِيدٍ نیز هر سخت چیز کو قَسْوَرَةٌ کہتے ہیں۔اور حضرت قَسْوَرَةً۔وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْقَسْوَرَةُ ابوہریرہ نے کہا کہ شیر کو بھی قسورة کہتے ہیں۔قَسْوَرٌ الْأَسَدُ الرّكْزُ الصَّوْتُ الرَّكْرُ کے معنی ہیں ہلکی آواز۔مُسْتَنْفِرَة کے مُسْتَنْفِرَةٌ (المدثر : ٥١) نَافِرَةٌ مَذْعُورَةٌ۔معنی ہیں بدکنے والی، خوف زدہ۔تشريح : سُورَةُ المدير: حضرت خلیفة الحج الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح پہلی سورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مزیل قرار دیا گیا، گویا اپنے آپ کو مضبوطی سے ایک کمبل میں لپیٹ لیا ہو۔اس سورت میں بھی یہی مضمون ہے اور اس امر کی تشریح ہے کہ وہ کون سے کپڑے ہیں جن کو نبی مضبوطی کے ساتھ اپنے ساتھ لگا لیتا ہے اور جن کو پاک کرتا رہتا ہے۔یہاں کوئی ظاہری کپڑے ہرگز مراد نہیں ہیں بلکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کا ذکر ہے کہ وہ صحابہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہتے ہیں آپ کی مطهر صحبت کے نتیجہ میں مسلسل پاک کئے جاتے ہیں اور وہ رجز کو چھوڑتے چلے جاتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے بہت سے ان میں سے ایسے تھے کہ ان کے لئے رجز سے اجتناب ممکن نہ تھا۔علاوہ ازیں رجز سے مراد مشرکین مکہ بھی ہو سکتے ہیں۔اور ان سے مکمل قطع تعلقی کا ارشاد فرمایا گیا ہے۔“ ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع، تعارف سورۃ المدثر صفحه ۱۰۹۴) مُسْتَنْفِرَة کے معنی ہیں بدکنے والی، خوف زدہ۔فرماتا ہے: كَانُهُم حُرُ مُسْتَنْفِرَةٌ (المدثر: ۵۱) گویاوہ پر کے ہوئے گدھے ہوں۔(ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: محمد جمع ہے چمار کی۔حمار کو حمار اس مناسبت سے کہتے ہیں کہ اس کی چیخ پکار کے