صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 312 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 312

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / المزمل جن کو پھاڑ کر انسان اس درجہ کو حاصل کرتا ہے جب تک وہ دنیا کے درخت سے کاٹا جاکر الوہیت کی شاخ کے ساتھ ایک پیوند حاصل نہیں کرتا اس کی سرسبزی اور شادابی محال ہے۔ دیکھو جب ایک درخت کی شاخ اس سے کاٹ دی جاوے تو وہ پھل پھول نہیں دے سکتی خواہ اسے پانی کے اندر ہی کیوں نہ رکھو اور ان تمام اسباب کو جو پہلی صورت میں اس کے لئے مایہ حیات تھے استعمال کرو لیکن وہ کبھ و لیکن وہ کبھی بھی بار آور نہ ہو گی۔ اسی طرح پر جب تک ایک صادق کے ساتھ انسان کا پیوند قائم نہیں ہوتا وہ روحانیت کو جذب کرنے کی قوت نہیں پاسکتا جیسے وہ شاخ تنہا اور الگ ہو کر پانی سے سر سبز نہیں ہوتی اسی طرح پر یہ بے تعلق اور الگ ہو کر بار آور نہیں ہو سکتا۔ پس انسان کو متبتل ہونے کے لئے ایک قطع کی ضرورت بھی ہے اور ایک پیوند کی بھی۔ خدا کے ساتھ اسے پیوند کرنا اور دنیا اور اس کے تمام تعلقات اور جذبات سے الگ بھی ہونا پڑے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بالکل دنیا سے الگ رہ کر یہ تعلق اور پیوند حاصل کرے گا۔ نہیں۔ بلکہ دنیا میں رہ کر پھر اس سے الگ رہے یہی تو مردانگی اور شجاعت ہے اور الگ ہونے سے مراد یہ کہ دنیا کی تحریکیں اور جذبات اس کو اپنا زیر اثر نہ کر لیں اور وہ ان کو مقدم نہ کرے بلکہ خدا کو مقدم اس اپنا نہ کر کرے۔ دنیا کی کوئی اور روک اس کی راہ میں نہ آوے اور اپنی طرف اس کو جذب نہ کر سکے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحه ۵۵۳،۵۵۲) انگالا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِن لَدَيْنَا انْكَالًا وَجَحِيمًا (المزمل: ١٣) یعنی ہمارے پاس قسم قسم کی بیڑیاں اور جہنم ہے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) ابو عبیدہ نے کہا: انگال کی واحد نیکل ہے جس کے معنی ہیں بیڑی۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۶۱) لو۔ لوہے کی وزنی زنجیر کو بیڑی کہتے ہیں جو قیدیوں کے ہاتھوں اور پاؤں میں ڈالی جاتی ہے تا کہ وہ با آسانی حرکت نہ کر سکیں۔ كَثِيبًا تھیلا کے معنی ریت کے ایسے ٹیلہ کے ہیں جو پھلتا رہے۔ حضرت ابن عباس کے بیان کردہ یہ معنی ابن ابی حاتم اور حاکم نے نقل کیے ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۶۱) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَهِيلًا ( المزمل: ۱۵) جس دن زمین اور پہاڑ کا نپیں گے اور پہاڑ ایسے ٹیلوں کی طرح ہو جائیں گے جو خود بخود پھسلے جاتے ہیں۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) وبیلا کے معنی ہیں سخت۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى