صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 311
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۱۱ ۶۵ - کتاب التفسير / المزمل خواہشوں اور ارادوں پر ایک موت وارد ہو کر خدا ہی خدارہ جاوے۔۔۔پس تقبل تام کی صورت میں یہ ضروری امر ہے کہ ایک شکر اور فنا انسان پر وارد ہو مگر نہ ایسی کہ وہ اسے خدا سے گم کرے بلکہ خدا میں گم کرے۔غرض عملی طور پر تقبل کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے جبکہ ساری روکیں دور ہو جائیں اور ہر ایک قسم کے حجاب دور ہو کر محبت ذاتی تک انسان کا رابطہ پہنچ جاوے اور فناء اتم ایسی حاصل ہو جاوے۔قیل و قال کے طور پر تو سب کچھ ہو سکتا ہے اور انسان الفاظ اور بیان میں بہت کچھ ظاہر کر سکتا ہے مگر مشکل ہے تو یہ کہ عملی طور پر اسے دکھا بھی دے جو کچھ وہ کہتا ہے۔یوں تو ہر ایک خدا کو ماننے والا ہے پسند بھی کرتا ہے اور کہہ بھی دیتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کو سب پر مقدم رکھوں اور مقدم کرنے کا مدعی بھی ہو سکتا ہے لیکن جب ان آثار اور علامات کا معائنہ کرنا چاہیں جو خدا کے مقدم کرنے کے ساتھ ہی عطا ہوتے ہیں تو ایک مشکل کا سامنا ہو گا۔بات بات پر انسان ٹھوکر کھاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جب اس مال اور جان دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ ان سے ان کی جانوں اور مالوں یا اور عزیز ترین اشیاء کی قربانی چاہتا ہے حالانکہ وہ اشیاء ان کی اپنی بھی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہ مضائقہ کرتے ہیں تو بات اصل میں یہی ہے کہ کوئی امر محض بات سے نہیں ہو سکتا جب تک عمل اس کے ساتھ نہ ہو اور عملی طور پر صحیح ثابت نہیں ہو تاجب تک امتحان ساتھ نہ ہو۔ہمارے ہاتھ پر بیعت تو یہی کی جاتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا اور ایک شخص کو جسے خدا نے اپنا مامور کر کے دنیا میں بھیجا ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے جس کا نام حکم اور عدل رکھا گیا ہے اپنا امام سمجھوں گا۔اس کے فیصلے پر انشراح قلب کے ساتھ رضامند ہو جاؤں گا لیکن اگر کوئی شخص یہ عہد اور اقرار کرنے کے بعد ہمارے کسی فیصلے پر خوشی کے ساتھ رضامند نہیں ہو تا بلکہ اپنے سینہ میں کوئی روک اور اٹک پاتا ہے تو یقیناً کہنا پڑے گا کہ اس نے تقبل حاصل نہیں کیا اور وہ اس اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا جو تقبل کا مقام کہلاتا ہے بلکہ اس کی راہ میں ہوائے نفس اور دنیوی تعلقات کی روکیں اور زنجیریں باقی ہیں اور ان حجابوں سے وہ باہر نہیں نکلا