صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 310
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / المزمل ٧٣ سُورَةُ الْمُزَّمِّل وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَتَبَتَّلُ (المزمل: (۹) اور مجاہد نے کہا: وتبتل کے معنی ہیں خالص أَخْلِصْ وَقَالَ الْحَسَنُ : اَنْكَالا (اس کا) ہو جا۔ اور حسن نے کہا: انگالا کے معنی (المزمل : ۱۳) قُيودًا مُنْفَطِرُ به ہیں بیڑیاں - مُنْفَطِر به یعنی اس کے سبب سے (المزمل: ١٩) مُثْقَلَةٌ بِهِ ۔ وَقَالَ ابْنُ بھاری ہو جائے گی۔ اور حضرت ابن عباس نے عَبَّاسٍ كَثِيبًا تمهيلًا (المزمل: ١٥) کہا : كَثِيبًا کھیلا کے معنی ہیں ریت کا وہ ٹیلا جو الرَّمْلُ السَّائِلُ۔ وَبِيلًا (المزمل (۱۷) پھلتا رہے۔ وہیلا کے معنی ہیں سخت۔ شَدِيدًا۔ تشريح : سُورَةُ الْمُزَّمِّل : سُورَةُ المُزمل : حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے پہلی سورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کی جو کیفیت بیان کی گئی تھی اس کی تفصیل اس سورت کے آغاز ہی میں ملتی ہے جو مختصراً یہ ہے کہ آپ راتوں کو اٹھتے تھے۔ اس کا اکثر حصہ گریہ وزاری میں صرف کیا کرتے تھے۔ اپنی نفسانی خواہشات کو روندنے کا اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں کہ انسان رات کو اُٹھ کر عبادت کے ذریعہ اپنی ان خواہشات کو کچل ڈالے۔“ ( ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ المزمل صفحه ۱۰۸۹) و تبتل : یعنی خالص اسی کا ہو جا۔ فرمایا : وَاذْكُرُ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل: ۹) اور چاہیے کہ تو اپنے رب کی صفات کو یاد کیا کر اور اسی سے دل لگایا کر۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں: ”ہمارے نزدیک اس وقت کسی کو مُتبتل کہیں گے جب وہ عملی طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام اور رضا کو دنیا اور اس کی متعلقات و مکروہات پر مقدم کرے۔ کوئی رسم و عادت کوئی قومی اصول اس کا رہزن نہ ہو سکے، نہ نفس رہزن ہو سکے ، نہ بھائی، نہ جو رو، نہ بیٹا ، نہ باپ۔ غرض کوئی شے اور کوئی تنفس اس کو خدا تعالیٰ کے احکام اور رضا کے مقابلہ میں اپنے اثر کے نیچے نہ لاسکے اور وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ایسا اپنے آپ کو کھو دے کہ اس پر فنائے اتم طاری ہو جائے اور اس کی ساری