صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 309
صحیح البخاری جلد ۱۲ ٣٠٩ ۶۵- کتاب التفسير / قل أوحى إلى شہب گرتے ہیں تو کوئی نبی یا مظلم من اللہ پیدا ہوتا ہے تو پھر انکار کی کیا وجہ ہے۔چونکہ شہب کا کثرت سے گرنا عرب کے کاہنوں کی نظر میں اس بات کے ثبوت کے لئے ایک بدیہی امر تھا کہ کوئی نبی اور ملہم من اللہ پیدا ہوتا ہے اور عرب کے لوگ کاہنوں کے ایسے تابع تھے جیسا کہ ایک مرید مرشد کا تابع ہوتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے وہی بدیہی امر اُن کے سامنے قسم کے پیرایہ میں پیش کیا تا اُن کو اس سچائی کی طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے انسان کا ساختہ پرداختہ نہیں۔اگر یہ سوال پیش ہو کہ شہب کا گر نا اگر کسی نبی یا ملہم یا محدث کے مبعوث ہونے پر دلیل ہے تو پھر کیا وجہ کہ اکثر ہمیشہ شہب گرتے ہیں مگر اُن کے گرنے سے کوئی نبی یا محدث دنیا میں نزول فرما نہیں ہو تا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حکم کثرت پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس زمانہ میں یہ واقعات کثرت سے ہوں اور خارق عادت طور پر اُن کی کثرت پائی جائے تو کوئی مرد خدا د نیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے۔کبھی یہ واقعات ارہاص کے طور پر اُس کے وجود سے چند سال پہلے ظہور میں آجاتے ہیں اور کبھی عین ظہور کے وقت جلوہ نما ہوتے ہیں اور کبھی اُس کی کسی اعلی فتحیابی کے وقت یہ خوشی کی روشنی آسمان پر ہوتی ہے۔ابنِ کثیر نے اپنی تفسیر میں سدی سے روایت کی ہے کہ شہب کا کثرت سے گرنا کسی نبی کے آنے پر دلالت کرتا ہے یا دین کے غلبہ کی بشارت دیتا ہے مگر جو کچھ اشارات نص قرآن کریم سے سمجھا جاتا ہے وہ ایک مفہوم عام ہے جس سے صاف اور صریح طور پر مستنبط ہوتا ہے کہ جب کوئی نبی یا وارث نبی زمین پر مامور ہو کر آوے یا آنے پر ہو یا اُس کے ارہا صات ظاہر ہونے والے ہوں یا کوئی بڑی فتحیابی قریب الوقوع ہو تو ان تمام صورتوں میں ایسے ایسے آثار آسمان پر ظاہر ہوتے ہیں اور اِس سے انکار کرنا نادانی ہے کیونکہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔بعض مصلح اور مجدد دین دنیا میں ایسے آتے ہیں کہ عام طور پر دنیا کو اُن کی بھی خبر نہیں ہوتی۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۱۰۳ تا ۱۰۸)