صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 308
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵- کتاب التفسير / قل أوحى إلى سے بہت زیادہ ٹو ٹنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی نبی دنیا میں پیدا ہونے والا ہے اور ایسا اتفاق ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حد سے زیادہ سقوط شہب ہوا جیسا کہ سورۃ الجن میں خدا تعالیٰ نے اس واقعہ کی شہادت دی ہے اور حکایتا عن الجنات فرماتا ہے۔وَ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْ نَهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَ شُهُبًا وَ أَنَا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّبْعِ ، فَمَنْ يَسْتَمِع الْآن يَجِدُ لَهُ شِهَابًا رَصَدًان سورة الجن الجزو نمبر ۲۹۔یعنی ہم نے آسمان کو ٹولا تو اُس کو چوکیداروں سے یعنی فرشتوں سے اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا اور ہم پہلے اس سے امور غیبیہ کے سننے کے لئے آسمان میں گھات میں بیٹھا کرتے تھے اور اب جب ہم سننا چاہتے ہیں تو گھات میں ایک شعلے کو پاتے ہیں جو ہم پر گرتا ہے۔ان آیات کی تائید میں کثرت سے احادیث پائی جاتی ہیں۔بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ سب اس قسم کی حدیثیں اپنی تالیفات میں لائے ہیں کہ شہب کا گرنا شیاطین کے رد کرنے کے لئے ہوتا ہے اور امام احمد ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ شہب جاہلیت کے زمانہ میں بھی گرتے تھے لیکن ان کی ، اور غلظت بعثت کے وقت میں ہوئی۔چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جب کثرت سے شہب گرے تو اہلِ طائف بہت ہی ڈر گئے اور کہنے لگے کہ شاید آسمان کے لوگوں میں تہلکہ پڑ گیا۔تب ایک نے اُن میں سے کہا کہ ستاروں کی قرار گاہوں کو دیکھو اگر وہ اپنے محل اور موقعہ سے ٹل گئے ہیں تو آسمان کے لوگوں پر کوئی تباہی آئی ورنہ یہ نشان جو آسمان پر ظاہر ہوا ہے ابن ابی کبشہ کی وجہ سے ہے (وہ لوگ شرارت کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن ابی کبشہ کہتے تھے ) غرض عرب کے لوگوں کے دلوں میں یہ بات جمی ہوئی تھی کہ جب کوئی نبی دنیا میں آتا ہے یا کوئی اور عظیم الشان آدمی پیدا ہوتا ہے تو کثرت سے تارے ٹوٹتے ہیں۔اسی وجہ سے بمناسبت خیالات عرب کے شہب کے گرنے کی خدائے تعالیٰ نے قسم کھائی جس کا مدعا یہ ہے کہ تم لوگ خود تسلیم کرتے ہو اور تمہارے کا ہن اس بات کو مانتے ہیں کہ جب کثرت سے