صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 307
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۰۷ ۶۵ - کتاب التفسير / قل أوحى إلى ایک معمولی ملا کے لئے تو وہ انگوروں کے خوشے لا سکتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وہ روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہ لائے اور آپ کو بسا اوقات فاقے کرنے پڑے۔ایک دفعہ آپ کے چہرہ پر ضعف کے آثار دیکھ کر صحابہ نے سمجھا کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔چنانچہ ایک صحابی نے بکری ذبح کی اور آپ کو اور بعض اور صحابہ کو کھانا کھلایا۔مگر ایسے مواقع میں سے ایک موقع پر بھی تو جنوں نے مدد نہیں کی۔میں سمجھتا ہوں وہ بڑے ہی بے شرم جن تھے کہ وہ آجکل کے ملنسٹوں کو تو سیب اور انگور لا کر کھلاتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن پر وہ ایمان لائے تھے انہوں نے کبھی ایک جو کی روٹی بھی نہ دی۔پھر وہ مومن کس طرح ہو گئے ؟ وہ تو پکے کافر تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال ہی بالکل غلط ہے کہ جن کوئی ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے نرالی ہے۔وہ جن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے وہ بھی انسان ہی تھے اور جس طرح اور لوگوں نے آپ کی مدد کی وہ بھی مدد کرتے رہے۔اگر کوئی نرالی مخلوق مانی جائے تو پھر اس سوال کا حل کرنا ان لوگوں کے ذمہ ہو گا جو جنات کے قائل ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی مدد نہ کی۔حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ النمل، زیر آیت وَحُشِرَ لِسُلَيْنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ، جلد ۷ صفحه ۳۵۹ تا ۳۶۲) وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ : اور ان پر شہاب ثاقب برسائے جاتے تھے۔یہ دیکھ کر شیطان لوٹ آئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: عرب کے لوگ بوجہ ان خیالات کے جو کاہنوں کے ذریعہ سے اُن میں پھیل گئے تھے نہایت شدید اعتقاد سے ان باتوں کو مانتے تھے کہ جس وقت کثرت سے ستارے یعنی شہب گرتے ہیں تو کوئی بڑا عظیم الشان انسان پیدا ہوتا ہے خاص کر اُن کے کا ہن جو ارواح خبیثہ سے کچھ تعلق پیدا کر لیتے تھے اور اخبار غیبیہ بتلایا کرتے تھے اُن کا تو گویا پختہ اور یقینی عقیدہ تھا کہ کثرت شہب یعنی تاروں کا معمولی اندازه