صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 10
۶۵ - کتاب التفسير / الزمر صحیح البخاری جلد ۱۲ طَوَيْتُ فُلَانَا بِسَيْفِي أَى أَفْنَيْتُهُ کہ میں نے اسے اپنی تلوار سے ختم کر دیا۔الیمین کے معنی اقتدار اور غلبہ کے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور غلبہ میں ہیں۔اس لفظ کے ایک معنی قسم بھی بیان کیے جاتے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے کہ وہ اس کو لیٹے گا اور اس کو ختم کرے گا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۱۴۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن کریم کے ہر یک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی غلطی ہے۔اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے: وَ السَّموتُ مَطويت بیمینہ یعنی دنیا کے فنا کرنے کے وقت خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ سے لپیٹ لے گا۔پھر ایک دوسری آیت ہے جو سورۃ الانبیاء جزوے میں ہے اور وہ یہ ہے: يَوْمَ نَطُوى السَّمَاء تَطَيّ السجل للكتب كَمَا بَدَانَا اَوَلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ (الانبیاء : ۱۰۵) یعنی ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے۔اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں۔بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں: وَتَكُونُ السَّمَوَاتُ بیبینه یعنی لپیٹنے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپالے گا اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر یک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہریہ میں مخفی ہو جائے گی۔اور ہر یک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی اور علل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ وَ يَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: ۲۸،۲۷) (بخاری، کتاب التوحيد، باب قول الله تعالى لِمَا خَلَقْتُ بيدی، روایت نمبر ۷۴۱۲) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " ہر چیز جو اس پر ہے فانی ہے۔مگر تیرے رب کا جاہ و حشم باقی رہے گا جو صاحب جلال و اکرام ہے۔“