صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 306
۶۵- کتاب التفسير / قل أوحى إلى صحیح البخاری جلد ۱۲ گے کہ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضًا بِبَعْضٍ ہم میں سے بعض نے بعض سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔اب اپنے اپنے محلہ اور گاؤں میں پھر کر لوگوں سے دریافت کر لو کہ کیا پہچاس یا اکاون فیصدی لوگ جنوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ سو میں سے ایک بھی ایسا شخص نہیں ملے گا جو یہ کہتا ہو کہ میں جنوں سے فائدہ اٹھاتا ہوں اور میرے ان سے تعلقات ہیں۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ جن سے مراد انسانوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق نہیں بلکہ انسانوں میں سے ہی بعض جن مراد ہیں۔اور انسانی جنوں کی دوستیاں بڑی کثرت سے نظر آتی ہیں۔پھر اس سے بڑھ کر ایک اور دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُمَعْشَرَ الْجِنِ وَالْإِنسِ الَم يَأْتِكُمُ رُسُلُ مِنْكُمْ - اے جنوں اور انسانوں کے گروہ جو ہمارے سامنے کھڑے ہو۔بتاؤ کیا تمہارے پاس ایسے رسول نہیں آئے جو تمہی میں سے تھے۔اب بتاؤ جب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض جن بھی ایمان لائے اور دوسری طرف یہ فرماتا ہے کہ ہمار ارسول بھی انہیں میں سے تھا تو کیا اس سے صاف ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جن بھی انسان ہی تھے کوئی غیر از انسان وجود نہیں تھے ؟ پھر یہیں تک بات ختم نہیں کی بلکہ فرمایا وَ يُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هذا۔وہ تمہیں انذار بھی کرتے تھے اور قیامت کے دن سے ڈراتے تھے۔گویا حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کو ڈرایا بھی کرتے تھے اور انہیں یوم آخرت اور اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا کرتے تھے۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ جن جن الانس ہی تھے کوئی اور مخلوق نہیں تھے۔جس طرح شیاطین الانس ہوتے ہیں اسی طرح جن الانس بھی ہوتے ہیں۔اب ایک اور موٹی مثال سنو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَك شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَ رَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ (الفتح ع1) کہ ہم نے اس رسول کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ تم ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو۔اب جبکہ جن بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے تو کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ ان جنوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی مدد کی ہو۔