صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 305 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 305

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۰۵ ۶۵ - کتاب التفسير / قل أوحى إلى لوگوں کے دماغوں میں ہے۔اسی طرح ایک حدیث میں جس کے راوی حضرت جابر بن عبد اللہ ہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے پانچ ایسی خصوصیتیں عطا کی گئی ہیں جو پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ كَانَ النَّبِي يُبعد إلى قَوْمِهِ خَاصَّةٌ کہ پہلے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا وَبُعِثْتُ اِلَى النَّاس عامة مگر میں روئے زمین کے تمام آدمیوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قطعی طور پر بیان فرماتے ہیں کہ انبیائے سابقین میں سے ایک نبی بھی ایسا نہیں جو اپنی قوم کے سوا کسی اور قوم کی طرف مبعوث ہوا ہو۔لیکن مسلمان یہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جنوں اور طیور اور چیونٹیوں کی طرف بھی بھیجے گئے تھے۔اگر واقعہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام جنوں اور طیور کی طرف مبعوث ہوئے تھے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نعوذ باللہ درجہ میں بڑھ گئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔پھر اگر یہ جن غیر از انسان ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے مخاطب کیونکر ہو گئے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ۚ يَمَعْشَرَ الْجِنِ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الانس (انعام ع (۱۵) یعنی جب قیامت کے دن سب لوگ جمع ہوں گے تو ہم جنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہیں گے اے جنوں کے گروہ ! تم نے اکثر حصہ انسان کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ہم تو جنوں کو تلاش کرتے کرتے تھک گئے مگر قرآن یہ کہتا ہے کہ جنوں نے اکثروں کو قابو کیا ہوا ہے۔حالانکہ ہم تلاش کرتے ہیں تو وہ ملتے نہیں۔لوگ وظیفے پڑھتے ہیں، چلہ کشیاں کرتے ہیں اور جب ان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اور خشکی سے کان بجنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں جن آگیا۔حالانکہ اس وقت جن نہیں آتا بلکہ اس وقت وہ خود دنیا سے کھوئے جاتے اور پاگل ہو جاتے ہیں۔تر و تازہ دماغ کے ہوتے ہوئے جن کبھی انسان کے پاس نہیں آتے۔غرض جنوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ تم نے انسانوں سے بہت سے فائدے اٹھائے ہیں۔اور وہ جو انسان ہیں وہ بھی کہیں