صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 304
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۰۴ ۶۵- کتاب التفسير / قل أوحى إلى سے مراد ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے علیحدہ ہے اسی طرح جن بھی ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے الگ ہے حالانکہ وَ اذَا خَلَوْا إِلى شَيْطِينِهِمْ میں مفسرین بالا تفاق کہتے ہیں کہ اس جگہ شیاطین سے مراد یہود اور ان کے بڑے بڑے سردار ود ہیں۔پس اگر انسان شیطان بن سکتا ہے تو انسان جن کیوں نہیں بن سکتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ كَذلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا شَيْطِيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنْ يُوَى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا (انعام ع ۱۴) که ہم نے ہر نبی کے دشمن بنائے ہیں۔شیطان آدمیوں میں سے بھی اور جنوں میں سے بھی جو لوگوں کو مخالفت پر اکساتے اور انہیں نبی اور اس کی جماعت کے خلاف برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسان بھی شیطان ہوتے ہیں۔پس اگر شیاطین الانس ہو سکتے ہیں تو جن الانس کیوں نہیں ہو سکتے۔یعنی جس طرح انسانوں میں سے شیطان کہلانے والے پید اہو سکتے ہیں اسی طرح ان میں جن کہلانے والے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔بہر حال قرآن کریم سے ہمیں پتہ لگ گیا کہ صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں ہی جن نہیں تھے بلکہ حضرت موسیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جن ایمان لائے تھے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کن کی طرف ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ سورہ نساء میں اس کے متعلق فرماتا ہے وَ اَرْسَلْنَكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا (نساء ع۱۱) ہم نے تجھے تمام آدمیوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔اب اللہ تعالیٰ اس آیت میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام آدمیوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا حالانکہ اگر آدمیوں کے علاوہ کوئی اور نرالی مخلوق جسے جن کہتے ہیں آپ پر ایمان لائی تھی تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ اَرْسَلْنَك للنَّاسِ وَالجِنَّ رَسُولًا مگر وہ یہ نہیں فرماتا۔بلکہ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے آدمیوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا۔تو جب آدمیوں کی طرف ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے گئے تھے تو صاف پتہ لگ گیا کہ جہاں یہ ذکر ہے کہ جن آپ پر ایمان لائے وہاں ان سے جن الانس ہی مراد ہیں نہ کہ کوئی اور نرالی مخلوق جس کا نقشہ عام