صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 303 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 303

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / قل أوحى إلى نہیں جن پر جن ایمان لائے بلکہ موسیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جنات ان پر ایمان لائے۔مگر افسوس ہے کہ مفسرین حضرت سلیمان کے جنوں کے متعلق تو عجیب عجیب قصے سناتے ہیں۔کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام قالین پر بیٹھ جاتے اور چار جنوں کو چار گوشے پکڑوا دیتے اور وہ انہیں اُڑا کر آسمانوں کی سیر کراتے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو جن ایمان لائے ان کے متعلق کسی ضعیف سے ضعیف روایت سے بھی یہ ثابت نہیں کرتے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی ایسی مدد کی ہو حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر سفر کرتے تھے۔آپ کے صحابہ کو کئی دفعہ سواریاں نہ ملتیں اور وہ روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور کہتے کہ ہمارے لئے کسی سواری کا انتظام فرما دیجئے تو ہم جانے کے لئے حاضر ہیں۔کئی دفعہ صحابہ نے ننگے پیر لمبے لمبے سفر کئے ہیں۔مگر یہ تمام دکھ اور تکلیفیں دیکھنے کے باوجود ان سنگدل جنوں کا دل نہ پسیجا۔وہ حضرت سلیمان کے وقت تو لشکر کا لشکر اٹھا کر دوسری جگہ پہنچادیتے تھے اور یہاں ان سے اتنا بھی نہ ہوا کہ دس بیس مہاجرین کو ہی اٹھا کر میدان جنگ میں پہنچا دیتے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جن غیر از انسان وجو د ہیں جو رسول کریم صلی اللہ یہ وسلم حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان علیہم السلام پر ایمان لائے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان معنوں کو قرآن کریم تسلیم کرتا ہے۔اگر یہ ایک استعارہ ہے تو یقیناً قرآن کریم نے اس کو اپنی کسی دوسری آیت میں حل کیا ہو گا۔اور استعارہ تسلیم نہ کرنے کی صورت میں قرآن کریم کی دو آیتیں باہم فکر اجائیں گی اور اس طرح قرآن کریم میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔پس ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ اس کو استعارہ تسلیم نہ کرنے سے قرآن کریم میں اختلاف پیدا ہوتا ہے یا استعارہ تسلیم کر کے اختلاف پیدا ہوتا ہے۔استعارہ کے متعلق یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ اسے استعارہ نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایسا ہی لفظ ہے جیسے شیطان کا لفظ آتا ہے۔جس طرح شیطان