صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 302 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 302

صحیح البخاری جلد ۱۲ ٣٠٢ ۶۵ - کتاب التفسير / قل أوحى إلى مخفی طاقتوں کا کامل ظہور مراد ہے کیونکہ عربی میں سات کا عدد کمال کے اظہار کے لیے آتا ہے اور شام کے شہر نصیبین میں یہ اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فتوحات کی رو عرب کے بعد شام کے ملک سے شروع ہو گی۔واللہ اعلم۔“ (سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ ۲۰۶ تا ۲۱۰) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جنات کی حقیقت پر غور کرنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ آیا قرآن کریم میں صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق ہی یہ ذکر آتا ہے کہ ان کے پاس جن تھے یا کسی اور نبی کے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ اس کے پاس جن آئے۔اس غرض کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں سورۃ احقاف میں یہ آیات نظر آتی ہیں: وَاذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ : فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا انْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِمْ مُنْذِرِينَ قَالُوا يقَومَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتبًا أَنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِى إِلَى الْحَقِّ وَ إِلى طَرِيقِ مُسْتَقِيمٍ يُقَومَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَامِنُوا بِهِ يَغْفِرُ لَكُمْ من ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرُكُمْ مِنْ عَذَاب اليم O (احقاف ع۴) فرماتا ہے اس وقت کو بھی یاد کرو جبکہ ہم جنوں میں سے کچھ لوگوں کو تیری طرف لائے جو قرآن سننے کی خواہش رکھتے تھے۔جب وہ تیری مجلس میں پہنچے تو کہنے لگے چپ کرو تا کہ اس کی آواز ہمارے کانوں میں اچھی طرح پڑے۔جب قرآن کریم کی تلاوت ختم ہو گئی تو وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے اور کہنے لگے۔اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب کی تلاوت سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اُتاری گئی ہے۔اور جو کتابیں اس سے پہلے اُتری ہیں ان سب کی تصدیق کرتی ہے اور حق کی طرف بلاتی اور سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔اے قوم۔اللہ تعالیٰ کے منادی کی آواز کو سنو اور اسے قبول کرو۔اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچائے گا۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جن تورات پر ، حضرت موسیٰ پر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائے تھے۔پس سلیمان ہی ایک ایسے نبی