صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 301
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / قل أوحى إلى ہے اور اس مخلوق کے وجود پر علم طب اور سائنس کے دوسرے شعبے یقینی قطعی شاہد ہیں تو پھر اس بات کے ماننے میں کیا تامل ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق جن کی قسم کی بھی موجود ہو گی جو باوجود انسانی نظر سے پوشیدہ ہونے کے اسی طرح زندہ اور قائم ہوگی جس طرح انسان اپنے دائرہ کے اندر زندہ اور قائم ہے۔بے شک اسلام ہمیں اس رنگ میں جنات کی تعلیم نہیں دیتا کہ ہم موہومہ بھوتوں وغیرہ کی صورت میں کسی ایسی مخلوق کے قائل ہوں جس کے افراد انسانی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہوئے انسان کے لیے ایک تماشہ بنتے پھریں اور انسان کے سامنے مختلف صورتیں بدل بدل کر اُس کی تفریح یا تخویف کا سامان بہم پہنچائیں۔یہ خیالات جاہلانہ تو ہم پر مبنی ہیں۔جن کا کوئی ثبوت اسلامی تاریخ یا حدیث یا قرآن کریم میں نہیں ملتا مگر یہ کہ جس طرح دُنیا میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار دوسری مخلوق ہے جس میں بڑی چھوٹی کثیف لطیف مرکی و غیر مرئی ہر قسم کی چیزیں شامل ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق جن بھی ہے جو جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے، انسان کی نظروں سے مخفی ہے اور ایک جداگانہ عالم سے تعلق رکھتی ہے اور عام حالات میں انسان کے ساتھ اس کا کوئی سروکار نہیں۔یہ وہ عقیدہ ہے جس پر کوئی عقلمند اعتراض نہیں کر سکتا۔باقی رہا یہ سوال کہ ان معنوں کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنات کے وفد آنے سے کیا مراد ہے ؟ سو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نظارہ ایک کشفی نظارہ سمجھا جائے گا اور اس سے مراد یہ ہوگی کہ اس انتہائی درجہ پریشانی اور بے بسی کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ نظارہ دکھا کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اے رسول گو ویسے ہر وقت ہی ہماری نصرت تیرے ساتھ ہے لیکن جس طرح گرمی کی شدت خاص طور پر بادل کو کھینچتی ہے اسی طرح اب وقت آگیا ہے کہ ہماری مخفی طاقتیں تیری رسالت کی تائید میں خصوصیت کے ساتھ مصروف کار ہو جائیں۔چنانچہ اس کے بعد جلد ہی حالات نے پلٹا کھایا اور ہجرت یثرب کا پر دہ اُٹھتے ہی خدا کی مخفی تجلیات اسلام کے جھنڈے کو اٹھا کر کہیں کا کہیں لے گئیں۔اور روایات میں جو سات کا لفظ آتا ہے سو اس سے