صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 300
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / قل أوحى إلى استعمال ہو جاتا ہے جو بوجہ امارت اور علو منزلت اور استکبار کے عام لوگوں کی سوسائٹی میں میل جول نہیں رکھتے اور علیحدگی میں زندگی گزارتے ہیں۔چنانچہ بسا اوقات قرآن شریف میں جن کا لفظ انس یعنی عامۃ الناس کے مقابلہ میں امراء کے طبقہ کے لئے استعمال ہوا ہے اور ان معنوں میں یہ لفظ عموم برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح ایسی قوموں پر بھی جن کا لفظ بول دیتے ہیں جو کسی ایسی علیحدہ اور منقطع جگہ میں آباد ہوں کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کا زیادہ میل ملاپ ممکن نہ ہو اور انہی دو معنوں کے پیش نظر بعض محققین نے آنحضرت لالا لال لاله صلی الہ وسلم کی خدمت میں جنوں کے وفد کے حاضر ہونے سے یہ مراد لیا ہے کہ یہ لوگ یا تو خاص امراء کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں گے جنہوں نے برملا طور پر آنحضرت صلی کام کی خدمت میں حاضر ہونے سے پر ہیز کیا اور علیحدگی میں آپ کا کلام سُن کر واپس چلے گئے اور یادہ کسی دُور افتادہ قوم کے افراد ہوں گے جو اپنے ماحول کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے بالکل جدا اور علیحدہ رہتی ہو گی۔ہمیں ان معنوں کے قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے اور اگر نخلہ میں جنوں کے وفد کے حاضر ہونے سے مراد اُمراء کے کسی وفد کا حاضر ہونا یا کسی دُور افتادہ منقطع قوم کے افراد کا پیش ہونا مراد ہے تو پھر اس میں خدا تعالیٰ کا یہ اشارہ ہو گا کہ اے رسول! مکہ اور طائف میں بظاہر اپنی ناکامیوں کو دیکھ کر پریشان اور دلگیر نہ ہو کیونکہ اب وقت آتا ہے کہ عوام الناس تو کیا بڑے بڑے امیر و کبیر لوگ تیرے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں گے اور دنیا کی دور افتادہ قومیں تیری غلامی کا جو آ اپنی گردنوں پر رکھیں گی۔لیکن اگر جن سے وہ مخفی مخلوق مراد ہے جس کی تفصیلات کا ہم کو علم نہیں، لیکن اس کا وجود نصوص قرآنی کے ساتھ ثابت ہے تو اس میں بھی کسی عقلمند انسان کو شبہ کی گنجائش نہیں ہو سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی خلق کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ کسی مخلوق کی نظر اس کی انتہاء کو نہیں پاسکتی۔جہاں انسان کے سوا اس عمر کی دنیا میں ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں قسم کی دوسری مخلوق موجود ہے جن میں سے بعض قسم کی مخلوق مرئی ہونے کے باوجود ہماری کو تاہ نظر سے پوشیدہ رہتی