صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 299
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۹ ۶۵- کتاب التفسير / قل أوحى إلى صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جنوں کے آنے کا خود براہ راست علم نہیں ہوا بلکہ ان کے چلے جانے کے بعد خدائی وحی کے ذریعہ اس بات کی اطلاع دی گئی کہ ایک جنوں کا گر وہ آپ کی تلاوت کو سُن گیا ہے۔حدیث میں بھی متفرق جگہ اس واقعہ کا ذکر آتا ہے اور گو تاریخی بیان سے حدیث کا بیان بعض تفصیلات میں مختلف ہے مگر مال ایک ہی ہے کہ جنات کے ایک وفد نے ایک سفر کی حالت میں آپ کی تلاوت قرآن کریم کو سنا اور پھر اس سے متاثر ہو کر اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ گیا۔ستیہ ممکن ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زیادہ دفعہ ہوا ہو جس کی وجہ سے روایات میں باہمی اختلاف ہو گیا ہے لیکن اس جگہ ہمیں اس واقعہ کی ظاہری تفصیلات سے زیادہ سروکار نہیں ہے بلکہ مختصر طور پر صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اس جگہ جنات سے کیا مراد ہے اور ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلنا اور پھر کلام مجید کی تلاوت سُن کر واپس لوٹ جانا کس غرض و غایت کے ماتحت تھا۔۔۔دراصل جن ایک عربی لفظ ہے جس کے روٹ میں چھپنے یا چھپانے یا نظروں سے پوشیدہ ہونے یا پردہ میں رہنے یا آڑ میں آجانے یا سایہ یا اندھیرا کرنے کے معنے ہیں۔چنانچہ عربی میں جنت باغ کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے درخت زمین پر سایہ کر کے اُسے چھپالیتے ہیں۔جنین اس بچہ کو کہتے ہیں جو ابھی رحم مادر میں ہے کیونکہ وہ رحم کے پردوں میں مخفی ہوتا ہے۔مجنہ ڈھال کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے پیچھے ایک جنگجو سپاہی لڑائی کے وقت میں آڑ لیتا ہے۔جنون دیوانگی کو کہتے ہیں کیونکہ وہ عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔جنان دل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ سینہ میں مخفی ہوتا ہے۔اسی طرح جنان رات یا لباس کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ اندھیرا کرنے یاڈھانکنے کا ذریعہ ہیں۔جنن قبر یا کفن کو کہتے ہیں کیونکہ یہ دونوں مُردے کو اپنے اندر چھپالیتے ہیں۔جان سانپ کو کہتے ہیں کیونکہ وہ عموماًزمین کے مخفی سوراخوں میں زندگی گذارتا ہے۔جنہ اوڑھنی کو کہتے ہیں کیونکہ وہ سر اور چھاتی کو ڈھانکتی ہے وغیرہ ذالک۔اس اصل کے ماتحت بعض اوقات عربی محاورہ میں جن کا لفظ ایسے امراء ورؤساء کے لیے بھی (صحيح مسلم، کتاب الصَّلَاةِ، بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ) (اقرب الموارد (جان)