صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 298
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۸ ۶۵ - کتاب التفسير / قل أوحى إلى عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ سراسر بھلائی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس أُوحِيَ إِلَى أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ پر ایمان لائے اور ہم تو اپنے رب کے ساتھ کسی کو (الجن: ٢) وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ بھی ہرگز شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل کی : تو طرفه: ۷۷۳ کہہ ! میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں میں سے ایک جماعت نے (قرآن) سنا ہے۔ اور آپ کو جنوں کی یہ بات وحی سے ہی بتائی گئی تھی۔ تشریح : عُکاظ نخلہ اور طائف کے درمیان ایک مشہور مقام ہے۔ یہاں میلہ لگا کرتا تھا۔ طائف سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۶ صفحہ (۳۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میلے میں بغرض تبلیغ تشریف لے جایا کرتے تھے۔ واقعہ مذکور مکی زندگی کا ہے۔ سورہ جن ہجرت سے دو سال قبل نازل ہوئی اور اس وقت حضرت عبد اللہ بن عباس ایک سال کے تھے۔ اس لئے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ابن عباس نے واقعہ مذکور کسی سے سن کر بیان کیا ہے۔ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِى إِلَى الرُّشْدِ : ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو سراسر بھلائی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں: ”طائف کے سفر کے متعلق یہ بھی روایت آئی ہے کہ جب آپ اس سفر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو نخلہ میں رات کے وقت جب کہ آپ قرآن شریف کی تلاوت میں مصروف تھے جنات کا ایک گروہ جو سات نفوس پر مشتمل تھا اور شام کے ایک شہر نصیبین سے آیا تھا آپ کے پاس سے گزرا اور اُس نے آپؐ کی تلاوت کو ٹنا اور اس سے متاثر ہوا اور جب یہ جن اپنی قوم کی طرف واپس گئے تو اُنہوں نے اپنی قوم سے آپ کی بعثت اور قرآن شریف کا ذکر کیا۔ قرآن شریف میں اس واقعہ کا دو جگہ ذکر آتا ہے ہے اور دونوں جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صد الليل ا زیادہ صحیح طور پر یہ شہر شام اور عراق کے درمیان واقع ہے۔ (سیرت خاتم النبیین صلی الیم، حاشیہ صلی علیهم ، حاشیه صفحه ۲۰۷) (سورة الاحقاف: ۳۰) (سورة الجن : ۲)