صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 9 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 9

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۹ ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر قَدَرُوا اللهَ حَقٌّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا آنے لگیں۔اس عالم کے قول کی تصدیق میں پھر قَبضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّموتُ مَطويت رسول الله صلی الم نے یہ آیت پڑھی: اور اُن بِيَمِينِهِ سُبُحْنَكَ وَتَعلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ لوگوں نے اللہ کی صفات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا۔(الزمر:۶۸) حالانکہ زمین سب کی سب اس کی مملوکہ ہے۔16/6/199 اور آسمان اور زمین دونوں) قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہوں گے۔وہ پاک ہے اور ان کے شرکیہ عقیدوں سے بہت بالا ہے۔أطرافه : ٧٤١٤، ٧٤١٥، 7451، 7513۔باب ٣ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبضَتُه يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّمَوتُ مَطويت بِيَمِينِهِ (الزمر : ٦٨) اور زمین سب کی سب اس کی مملو کہ ہے اور آسمان ( اور زمین دونوں ) قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہوں گے ٤٨١٢: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ :۴۸۱۲ سعید بن عفیر نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي نے کہا: لیث نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عبد الرحمن بن خالد بن مسافر نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ شہاب سے ، ابن شہاب نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقْبِضُ زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے اللهُ الْأَرْضَ وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ دائیں ہاتھ میں لیٹے گا۔پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ہوں۔زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ أطرافه: 15٥١٩، 7381، 7413۔یخ: وَ السَّمُوتُ مَطويتُ بِيَبِيْنِهِ : علی کے ایک معنی چھپانے کے ہیں۔کہا جاتا ہے: کویت فُلانَا عَنْ أَعْيُنِ النَّاسِ۔میں نے فلاں آدمی کو لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھا۔واخو هَذَا الحَدِيث عَنِی کے معنی ہیں اُستره یعنی مجھ سے یہ بات مخفی رکھو۔الکلی کے ایک معنی فنا اور ختم کرنے کے بھی ہیں۔