صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 296 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 296

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۶ ۶۵- کتاب التفسير / قل أوحى إلى ٧٢ سُورَةُ قُلْ أُوحى إلى قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لِبَدا (الجن: ۲۰) أَعْوَانًا حضرت ابن عباس نے کہا: لبدا کے معنی ہیں مددگار یح : لبدا : حضرت ابن عباس نے کہا: لبدا کے معنی ہیں اغواکا یعنی مددگار۔علامہ عینی لکھتے ہیں: أَعْوَانا عون کی جمع ہے اور اس کے معنی ہیں کسی امر کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرنا۔(عمدة القاری جزء ۱۹ صفحه ۲۶۳) مراد یہ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکٹھے ہو کر اس نور کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے : وَ أَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدان (الجن: ٢٠) یعنی اور یقیناً جب بھی اللہ کا بندہ اُس کو پکارتے ہوئے کھڑا ہوا تو وہ قریب ہوتے ہیں کہ اس پر غول در غول ٹوٹ پڑیں۔( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابخ) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدا كَادُوا کی ضمیر جن اور انس، کفار اور مومن سب کی طرف راجع ہو سکتی ہے۔لبد لبدھ کی جمع ہے۔اور لبدھ کے معنے بعض کو بعض پر لپیٹنا۔لُبَديضَةِ اللَّام وَفَتْح الباء بھی قراءت ہے ، معنے یہ ہوئے کہ کفار مشرکین قرآن سنانے کے وقت مخالفت پر آمادہ ہو کر نبی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور مومن مسلمین بھی اطاعت، انقیاد اور حفظ کلام کی نیت سے مسابقت کرتے ہیں۔جنوں کی طرف بھی اسی اعتبار سے گادُوا کا مرجع ہو سکتا ہے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۲۲۷) باب ۱ ٤٩٢١: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۹۲۱ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشَرِ عَنْ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو بشر سے، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابو بشر نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابن عباس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِّنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں سے