صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 295
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۵ ۶۵ - کتاب التفسير / نوح يَغُوثَ: حاجت روائی اور فریاد رسی کا دیوتا۔اس کی شکل گھوڑے کی تھی۔شاید اس واسطے کہ فریادرسی کے لیے تیز رفتاری کی ضرورت ہوتی ہے۔اس طرح ہندؤوں میں اندر دیوتا ہے۔يَعُونَ: (عوق سے مشتق ہے۔بمعنے روکنا اور دفع کرنا) یہ مصیبتوں اور دشمنوں کے روکنے کا بت تھا۔بشکل شیر۔ہندؤوں میں اس کے بالمقابل شنگھ اوتار دیوتا ہے۔نَسُرا: طول عمر کا دیو تابشکل باز بنا ہو اہوتا ہے۔یہی بت اس قوم کی ہلاکت کا موجب ہوئے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۲۱۸)