صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 294
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۴ ۶۵ - كتاب التفسير / نوح لِكَلْبِ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ وَأَمَّا سُوَاعٌ عربوں میں آگئے۔ وُڈ جو تھا تو وہ اس کلب قبیلے کا فَكَانَتْ لِهُذَيْلٍ وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ تھا جو دومۃ الجندل میں آباد تھا۔ اور جو سُواع تھا تو لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجُرُفِ عِنْدَ وہ ہذیل قبیلہ کا تھا اور یغوث مراد قبیلے کا تھا، پھر سَبَإٍ وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ وَأَمَّا وہ بنو غطیف کا ہو گیا جو سبا شہر کے پاس جرف میں رہتا تھا۔ اور جو یعوق تھا وہ ہمدان قبیلے کا۔ اور جو نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ لِآلِ ذِي الْكَلَاعِ نسر تھا تو وہ حمیر کا، جو ذی السلام کی اولاد تھے۔ أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ یہ سب ان چند نیک آدمیوں کے نام ہیں جو فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى حضرت نوح کی قوم میں سے تھے۔ جب وہ مر گئے قَوْمِهِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ ڈالا کہ اُن الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا جَگہوں میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے ثبت کھڑے بِأَسْمَائِهِمْ فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتَّى إِذَا کر دو اور اُن کے ناموں پر ان کے نام رکھو۔ چنانچہ هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ انہوں نے (ایسا ہی) کیا۔ اور ان کو نہیں پوجا جاتا تھا۔ مگر جب وہ لوگ ہلاک ہو گئے اور اصل معلومات نہ رہیں تو ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ تشريح۔ وَذَا وَ لَا سُوَاعًا: فرماتا ہے: وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ الهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَذَا وَ لَا سُوَاعًا ۚ وَلَا يَغُونَ وَيَعُوقَ وَلَسْرًا (نوح: ۲۴) اور (اپنی قوم سے) کہتے رہے ہیں کہ تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا۔ نہ وڈ کو چھوڑنا، نہ سواع کو چھوڑنا اور نہ یغوث کو اور نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” یہ اُن کے بتوں کے نام ہیں : 1) وَدًّا: محبت اور خواہش کا دیوتا جس کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے ارادے سے ایجاد عالم کا باعث ہوا۔ اس کو مرد کی صورت پر بنایا جاتا ہے۔ ہندؤوں میں اس کے بالمقابل برہما ہے۔ (۲) سُواع : بقائے عالم کا بت جو عورت کی شکل میں ہوتا ہے اس کے مقابل ہندو میتھالوجی میں بشن ہے۔