صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 293
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۳ ۶۵ کتاب التفسير / نوح ان تمام وجوہ سے کتاب الہی کی حاجت ہوئی کیونکہ ساری نیک صفتیں اور ہر یک طور کی کمالیت و خوبی صرف خدا ہی کی کتاب میں پائی جاتی ہے وبس۔دوم۔حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں یہ ہے کہ تانیک اور پاک لوگوں کی خوبی ظاہر ہو کیونکہ ہر یک خوبی مقابلہ ہی سے معلوم ہوتی ہے۔جیسے فرمایا ہے: انا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًاه الجزو نمبر ۱۵ یعنے ہم نے ہر یک چیز کو جو زمین پر ہے زمین کی زینت بنا دیا ہے تاجو لوگ صالح آدمی ہیں بمقابلہ بُرے آدمیوں کے ان کی صلاحیت آشکارا ہو جائے اور کثیف کے دیکھنے سے لطیف کی لطافت کھل جائے۔کیونکہ ضد کی حقیقت ضد ہی سے شناخت کی جاتی ہے اور نیکیوں کا قدر و منزلت بدوں ہی سے معلوم ہوتا ہے۔سوم۔حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں انواع و اقسام کی قدرتوں کا ظاہر کرنا اور اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانا ہے جیسا فرمایا مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَادًا وقد خَلَقَكُم اَطواراں نمبر ۲۹۔یعنے تم کو کیا ہو گیا کہ تم خدا کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے حالانکہ اس نے اپنی عظمت ظاہر کرنے کے لیے تم کو مختلف صورتوں اور سیرتوں پر پیدا کیا۔یعنے اختلاف استعدادات و طبائع اسی غرض سے حکیم مطلق نے کیا تا اس کی عظمت و قدرت شناخت کی جائے۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول، حاشیه صفحه ۲۰۴ تا ۲۰۷) بَاب ۱ : وَذَا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ (نوح: ٢٤) وڈ اور نہ سواع اور نہ یغوث اور یعوق ٤٩٢٠ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۹۲۰ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَقَالَ هشام بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جریج سے روایت کی۔اور عطاء نے حضرت ابن صَارَتِ الْأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے نُوحٍ فِي الْعَرَبِ بَعْدُ أَمَّا وَدُّ فَكَانَتْ کہا: وہ بُبت جو کہ قوم نوح میں تھے ، وہ بعد میں