صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 292 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 292

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۲ ۶۵ - كتاب التفسير / نوح تیرہ سال پہلے صبر کرتے رہے۔ پھر جب درد کی حالت پیدا ہوئی تو قتال کے ذریعہ مخالفین پر عذاب نازل ہوا۔ خود ہماری نسبت دیکھو جب یہ شبھ چنتک جاری ہوا تو اس کا ذکر تک بھی نہیں کیا گیا۔ مگر جب ارادہ الہی اس کی تباہی کے متعلق ہوا تو ہماری توجہ اس طرف بے اختیار ہو گئی اور پھر تم دیکھتے ہو کہ رسالہ ابھی اچھی طرح شائع بھی نہ ہونے پایا کہ خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہو گئیں۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه (۱۹۹) وقارا: فرماتا ہے: مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا (نوح: ۱۴) تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ سے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے۔ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہاں اگر یہ جستجو ہے کہ اس تفاوت مراتب رکھنے میں حکمت کیا ہے۔ تو سمجھنا چاہیے کہ اس بارہ میں قرآن شریف نے تین حکمتیں بیان فرمائی ہیں جو عند العقل نہایت بدیہی اور روشن ہیں جن سے کوئی عاقل انکار نہیں کر سکتا اور وہ بہ تفصیل ذیل ہیں: اول۔ یہ کہ تا مہمات دنیا یعنے امور معاشرت با حسن وجہ صورت پذیر ہوں ۔۔ ہم نے اس لئے بعض کو دولت مند اور بعض کو درویش اور بعض کو لطیف طبع اور بعض کو کثیف طبع اور بعض طبیعتوں کو کسی پیشہ کی طرف مائل اور بعض کو کسی پیشہ کی طرف مائل رکھا ہے تا ان کو یہ آسانی پیدا ہو جائے کہ بعض کے لئے بعض کار برار اور خادم ہوں اور صرف ایک پر بھار نہ پڑے اور اس طور پر مہمات بنی آدم بآسانی تمام چلتے رہیں ۔۔۔۔ انصاف و خدا ترسی ایک قانون پر موقوف ہے جس میں دقائق معدلت و حقائق معرفت الہی بدرستی تمام درج ہوں اور سہوا یا عمد اسی نوع کا ظلم یا کسی نوع کی غلطی نہ پائی جاوے۔ اور ایسا قانون اسی کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جس کی ذات سہو و خط و ظلم و تعدی سے بکلی پاک ہو اور نیز اپنی ذات میں واجب الانقیاد اور واجب التعظیم بھی ہو۔۔۔