صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 291 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 291

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۱ ۶۵ - كتاب التفسير / نوح چند ایک کے جنہوں نے نوح علیہ السلام کی کشتی میں پناہ لی تھی اور پھر ان لوگوں سے جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے ایک نئی بہتر نسل کا آغاز کیا گیا۔“ ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ، تعارف سورۃ نوح صفحہ ۱۰۷۷) امام بخاری اس سورۃ میں جو الفاظ لائے ہیں ان کی تفصیل ذیل میں دی جاتی ہے: اطوارا: فرماتا ہے: وَقَدْ خَلَقَكُم اَطواران (نوح: ۱۵) حالانکہ اس نے تم کو بہت ترقیات حاصل کرنے کی طاقت دے کر بھیجا ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انسان کو پیدائش کے وقت مختلف صورتوں میں سے گزارا ہے۔نطفہ ، علقہ، مضغہ وغیرہ۔کیا یہ تفرقہ اور امتیاز کسی علیم و قدیر ہستی کا کام نہیں۔یہی خدا تعالیٰ کی ہستی کی ایک دلیل ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۲۱۶) دیا را دور سے ہے مگر وہ فیعالی کا وزن ہے دَوران سے۔آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَقَالَ نُوحٌ ذَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّا راه ( نوح: ۲۷) اور نوح نے یہ بھی دعا کی کہ اے میرے رب !زمین پر کافروں کا کوئی گھر باقی نہ رہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) یہ بد دعا نہیں کہ سب کا فرمارے جائیں، بلکہ دعا ہے کہ سب قوم ایمان لے آئے۔نیز یہ دعا اس بناء پر کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ علم دیا تھا کہ اب اگر یہ زندہ رکھے گئے تو صرف فاسق و فاجر پیدا کریں گے ان کی نسلوں سے مؤمن پیدا ہونے کی امید منقطع ہو چکی ہے۔اور اگر اس دعا سے مراد تباہی لی جائے تو وہ تب ہو گی جب اتمام حجت کر دی گئی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے اتمام حجت کے بعد یہ دعا کی۔دو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جب ارادہ الہی کسی قوم کی تباہی سے متعلق ہوتا ہے تو نبی میں درد کی حالت پیدا ہوتی ہے۔وہ دعا کرتا ہے۔پھر اس قوم کی تباہی یا خیر خواہی کے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔دیکھو نوح علیہ السلام پہلے صبر کرتے رہے اور بڑی مدت تک قوم کی ایذائیں سہتے رہے۔پھر ارادہ الہی جب ان کی تباہی سے متعلق ہوا تو درد کی حالت پیدا ہوئی اور دل سے نکلا رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا (نوح:۲۷) جب تک خدا تعالٰی کا ارادہ نہ ہو وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم