صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 290 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 290

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۹۰ ۷۱ سُورَةُ نُوح ۶۵ - کتاب التفسير / نوح اطوارا (نوح: ١٥) طَوْرًا كَذَا وَطَوْرًا اَطوَارًا کے معنی ہیں کبھی اس حالت میں کبھی اس كَذَا، يُقَالُ عَدَا طَوْرَهُ أَيْ قَدْرَهُ حالت میں۔کہتے ہیں: عَدا طوره یعنی وہ اپنے وَالْكُبَّارُ أَشَدُّ مِنَ الْكُبَارِ وَكَذَلِكَ اندازے سے بڑھے گا۔اور الکتبار (ب کی تشدید جُمَّالٌ وَجَمِيلٌ لِأَنَّهَا أَشَدُّ مُبَالَغَةً کے ساتھ معنی میں گہار (ب کی تخفیف کے ساتھ) وَكَذَلِكَ كُبَّارٌ الْكَبِيرُ وَكُبَارًا أَيْضًا سے بڑھ کر ہے یعنی بہت ہی بڑا۔ایسا ہی مجتھالی اور بِالتَّخْفِيفِ وَالْعَرَبُ تَقُولُ رَجُلٌ جَمِيلٌ یعنی بہت ہی خوبصورت، کیونکہ یہ مبالغہ حُسَانٌ وَجُمَّالٌ وَحُسَانٌ مُخَفَّفٌ میں بڑھ کر ہے۔اور اسی طرح گہار ہے یعنی وَجُمَالٌ مُخَفَّفْ دَيَّارًا (نوح: ۲۷) بہت ہی بڑا۔اور کبھی (اس کو) کباڑا بھی (پڑھتے مِنْ دَوْرٍ، وَلَكِنَّهُ فَيْعَالٌ مِّنَ الدَّوَرَانِ ہیں) تخفیف ہے۔اور عرب کہتے ہیں: رَجُلٌ حسان وجمال اور (کبھی کہتے ہیں: ) حسان تخفیف سے اور مجمال تخفیف ہے۔دیارًا دَور سے ہے۔مگر وہ فیعال کا وزن ہے دَوران سے۔جیسا کہ حضرت عمر نے الْحَيُّ الْقَيَّامُ پڑھا ہے۔اور یہ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِدْرَارًا (نوح:۱۲) کلمہ کمنٹ سے ہے۔اور (حضرت عمر کے سوا) كَمَا قَرَأَ عُمَرُ الْحَيُّ الْقَيَّامُ وَهْيَ مِنْ قُمْتُ، وَقَالَ غَيْرُهُ دَيَّارًا (نوح: ٢٧) أَحَدًا۔تَبَارًا (نوح: ٢٩) هَلَاكًا۔يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا۔وَقَارًا (نوح:١٤) عَظَمَةً۔اوروں نے کہا: دیارا کے معنی ہیں کسی کو بھی۔تبارا کے معنی ہیں ہلاکت۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: مدرارا کے معنی ہیں لگاتار برسنے والی۔وقارا کے معنی ہیں عظمت۔شریح: سورة نوج: حضرت خلية الحج الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گزشتہ سورت کے آخر میں فرمایا تھا کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ تم سے بہتر لوگ پیدا کر دیں۔اب اس سورت میں فرمایا کہ قوم نوح کے عذاب میں چھوٹے پیمانے پر یہی صورت تھی کہ پوری کی پوری قوم غرق کر دی گئی سوائے