صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 289 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 289

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۹ ۶۵ - كتاب التفسير اسأل سائل عزین کے معنی ہیں گروہ در گروہ۔اس میں ان آیات کی طرف اشارہ ہے : فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ ، عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِینَ (المعارج: ۳۸،۳۷) پس کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ تیری طرف غصہ سے سر اُٹھا کر دوڑے آ رہے ہیں۔دائیں طرف سے بھی اور بائیں طرف سے بھی، گروہ در گروہ کی صورت میں۔( ترجمه تفسیر صغیر) علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گروہ در گروہ اکٹھے ہو جاتے تھے اور آپ کے کلام کو سن کر استہزاء کیا کرتے تھے۔(الكشاف للزمخشرى، سورة المعارج آيت عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشَّمَالِ عِزِينَ، جزء ۲ صفحہ ۲۱۳)