صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 288
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۸ ۷۰ سُورَةُ سَأَلَ سَائِلٌ ۶۵ - كتاب التفسير سأل سائل الْفَصِيلَةُ أَصْغَرُ آبَائِهِ الْقُرْبَى إِلَيْهِ الْفَصِيلَة کے معنی ہیں نہایت ہی نزدیک کا دادا يَنْتَمِي مَنِ انْتَمَى لِلشَّوى جس کی طرف منسوب ہونے والا منسوب ہوتا (المعارج : ۱۷) الْيَدَانِ وَالرِّجْلَانِ ہے- للشوی دونوں ہاتھ ، پاؤں اور (بدن کے) وَالْأَطْرَافُ وَجِلْدَةُ الرَّأْسِ يُقَالُ لَهَا آخری حصے اور سر کی کھال، انہی کو شَوَاتاً کہتے ہیں۔اور شوی وہ اعضاء ہیں جن کے کٹنے سے آدمی مرتا نہیں۔عِزِینَ اور الْعِزُون کے معنی ہیں گروہ در گروہ، اس کی مفرد عزت ہے۔شَوَاةٌ وَمَا كَانَ غَيْرَ مَقْتَل فَهُوَ شَوَّى، عزين (المعارج: ۳۸) وَالْعِزُونَ الْحَلَقُ وَالْجَمَاعَاتُ وَاحِدُهَا عِزَةٌ۔تشریح ریح : دادا ہوتا۔الفَصِيلة کے معنی ہیں نہایت ہی نزدیک کا دادا جس کی طرف منسوب ہونے والا منسوب ہوتا ہے۔اس میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے : وَفَصيلَتِهِ الَّتِي تُحديد (المعارج: ۱۴) یعنی اور اپنے اس قبیلہ کے ذریعہ سے جس کی طرف وہ پناہ لیا کرتا تھا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) ابو عبیدہ کہتے ہیں: فصيلة قبیلے کی چھوٹی شاخ کو کہتے ہیں اور عبد الرزاق نے معمر سے روایت کی ہے کہ فصيلة سے مراد رضاعی ماں ہے اور داؤدی نے بیان کیا ہے کہ فصيلة نارِ جہنم میں سے ایک نام ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۸۴۹) للشَّوی دونوں ہاتھ ، پاؤں اور (بدن کے ) آخری حصے اور سر کی کھال کو کہتے ہیں۔اس میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے : نَزَّاعَةُ لِلشوى ( المعارج:۱۷) یعنی سر تک کے چھڑے کو اکھیٹر دینے والا عذاب ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) علامہ بدر الدین مینی لکھتے ہیں کہ مجاہد کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے سر کی جلد کو اکھاڑا جائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد چہرے کے محاسن کو ختم کرنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد پٹھے اور ایڑی وغیرہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہاتھوں پاؤں کی انگلیاں اور سر ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ گوشت ہے جو ہڈی سے اتار لیا جائے۔مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جہنم کی آگ ان کے گوشت کو بھی جلائے گی اور ان کی جلد کو بھی۔کلبی سے روایت ہے کہ جہنم کی آگ ان کے سر اور دماغ کے گوشت کو بھسم کر دے گی۔پھر دماغ اسی حالت میں ہو جائے گا جس میں پہلے تھا۔پھر آگ اس کو جلائے گی اور یہ اسی طرح ہو تا رہے گا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه (۲۶۰)