صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 287
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۷ ۶۵- كتاب التفسير / الحاقة میں دوسرے بھی شریک ہوتے ہیں یا وہ احکام دوسروں کے لئے ہی ہوتے ہیں۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو فرمایا کہ اگر وہ ہمارے پر کچھ افترا کرتا تو ہم اُس کو ہلاک کر دیتے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ غیرت اپنی ظاہر کرتا ہے کہ آپ اگر مفتری ہوتے تو آپ کو ہلاک کر دیتا مگر دوسروں کی نسبت یہ غیرت نہیں ہے اور دوسرے خواہ کیسا ہی خدا پر افتراء کریں اور جھوٹے الہام بنا کر خدا کی طرف منسوب کر دیا کریں اُن کی نسبت خدا کی غیرت جوش نہیں مارتی۔یہ خیال جیسا کہ غیر معقول ہے۔ایسا ہی خدا کی تمام کتابوں کے برخلاف بھی ہے اور اب تک توریت میں بھی یہ فقرہ موجود ہے کہ جو شخص خدا پر افترا کرے گا اور جھوٹا دعویٰ نبوت کا کرے گا وہ ہلاک کیا جاوے گا۔علاوہ اس کے قدیم سے علماء اسلام آیت لَو تَقَولَ عَلَینا کو عیسائیوں اور یہودیوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لئے بطور دلیل پیش کرتے رہے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ جب تک کسی بات میں عموم نہ ہو وہ دلیل کا کام نہیں دے سکتی۔بھلا یہ کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر افترا کرتے تو ہلاک کئے جاتے اور تمام کام بگڑ جاتا لیکن اگر کوئی دوسرا افترا کرے تو خدا ناراض نہیں ہو تا بلکہ اس سے پیار کرتا ہے اور اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ مہلت دیتا ہے اور اُس کی نصرت اور تائید کرتا ہے اس کا نام تو دلیل نہیں رکھنا چاہئے بلکہ یہ تو ایک دعویٰ ہے کہ جو خود دلیل کا محتاج ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۳، ۲۱۴) اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے دیکھئے اربعین نمبر ۴، روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۴۳۰ تا ۴۴۱۔نیز دیکھئے ضمیمه اربعین نمبر ۳، ۴، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۴۶۸ تا ۴۷۳۔