صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 8
صحیح البخاری جلد ۱۲ A ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر ما حصل اس آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ دل و جان سے تیرے یارسول اللہ غلام بن جائیں گے اُن کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا کہ جو اُن کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا اور وہ گناہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے۔أَنَا الحَاشِيرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدی لے یعنی میں وہ مُردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اُٹھائے جاتے ہیں۔“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن، جلد ۵ صفحه ۱۹۰ تا۱۹۴) باب ۲ : وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِةٍ (الزمر: ٦٨) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) اور اُن لوگوں نے اللہ کی صفات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا ٤٨١١: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ۴۸۱۱ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ که شیبان بن عبد الرحمن) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ نے منصور بن معتمر) سے، منصور نے ابراہیم حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ (شخصی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے ، عبیدہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے إِنَّا نَجِدُ أَنَّ اللهَ يَجْعَلُ السَّمَوَاتِ عَلَى روایت کی۔انہوں نے کہا: یہود کے علماء میں سے إِصْبَعِ وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعِ وَالشَّجَرَ ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا عَلَى إِصْبَعٍ وَالْمَاءَ وَالشَّرَى عَلَى اور کہنے لگا: اے محمد ! ہم (اپنی کتابوں میں) یہ إِصْبَعِ وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ عَلَى إِصْبَعِ پاتے ہیں کہ اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ فَضَحِكَ النَّبِيُّ کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ اور مٹی ایک انگلی پر اور باقی سب مخلوق کو ایک نَوَاحِدُهُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ ثُمَّ قَرَأَ انگلی پر رکھے گا، پھر کہے گا: میں بادشاہ ہوں۔نبی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلى العالم یہ سن کر اتنا ہے کہ آپ کی داڑھیں نظر (بخاری، کتاب المناقب، باب مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ رَسُولِ الله صلی ال، روایت نمبر ۳۵۳۲)