صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 286 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 286

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۶ ۶۵ - کتاب التفسير / الحاقة کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِينَ ) (الحاقة: ۴۵ تا ۴۸) یعنی اور اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا، خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقیناً اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگِ گردن کاٹ دیتے۔ سو اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا جو اسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) اس آیت کی تفسیر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: د اور اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنا لیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پر وحی کی ہے حالانکہ وہ کلام اس کا ہوتا نہ خدا کا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اس کی رگِ جان کاٹ دیتے اور کوئی تم میں سے اس کو بچانہ سکتا یعنی اگر وہ ہم پر افتراء کر تا تو اس کی سزا موت تھی کیونکہ وہ اس صورت میں اپنے جھوٹے دعوے سے افتراء اور کفر کی طرف بلا کر ضلالت کی موت سے ہلاک کرنا چاہتا تو اس کا مرنا اس حادثہ سے بہتر ہے کہ تمام دنیا اس کی مفتریانہ تعلیم سے ہلاک ہو۔ اس لیے قدیم سے ہماری یہی سنت ہے کہ ہم اسی کو ہلاک کر دیتے ہیں جو دنیا کے لیے ہلاکت کی راہیں پیش کرتا ہے اور جھوٹی تعلیم اور جھوٹے عقائد پیش کر کے مخلوق خدا کی روحانی موت چاہتا ہے اور خدا پر افتراء کر کے گستاخی کرتا ہے۔ اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اگر وہ ہماری طرف سے نہ ہوتا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے اور وہ ہر گز زندہ نہ رہ سکتا گو تم لوگ اس کے بچانے کے لیے کوشش بھی کرتے۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۳۹، ۴۰) وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ الْوَتِينَ: اور حضرت ابن عباس نے کہا: الوتین دل کی وہ رگ ہے جس پر زندگی کا انحصار ہے۔ فرمایا: ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (الحاقة : (۴۷) اور اس کی رگ گردن کاٹ دیتے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ آیت اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے معنوں میں عموم ہے جیسا کہ تمام قرآن شریف میں یہی محاورہ ہے کہ بظاہر اکثر امر و نہی کے مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں لیکن اُن احکام