صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 285
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۵ ۶۵ - كتاب التفسير / الحاقة ٦٩- سُورَةُ الْحَاقَّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے عِيشَةٍ رَاضِيَة (الحاقة: ٢٢) يُرِيدُ فِيهَا عِيْشَةٍ رَاضِيَةٍ سے مراد یہ ہے کہ ایسی زندگی الرّضَا۔الْقَاضِيَة (الحاقة: ۲۸) الْمَوْتَةَ جس میں رضاء الہی ہو گی۔الْقَاضِيَة کے معنی ہیں الْأُولَى الَّتِي مُتْهَا ثُمَّ أُحْيَا بَعْدَهَا۔پہلی موت جو مجھ پر آئی، پھر اس کے بعد زندہ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حجزِينَ (الحاقة: ٤٨) ہوں گا۔مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حجزِینَ یعنی پھر کوئی أَحَدٌ يَكُونُ لِلْجَمْعِ وَلِلْوَاحِدِ۔وَقَالَ بھی اس سے بچانے والا ( نہ ہو گا۔) أَحد جمع اور ابْنُ عَبَّاسِ الْوَتِينَ (الحاقة : ٤٧) نِيَاطُ واحد دونوں کے لئے آتا ہے۔اور حضرت ابن الْقَلْبِ۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ طَغَا (الحاقة :۱۲) عباس نے کہا: الوتین دل کی وہ رگ ہے جس پر زندگی کا انحصار ہے۔حضرت ابن عباس نے کہا: كَفْرَ وَيُقَالُ بِالطَّاغِيَةِ (الحاقة: ٦) طفا یعنی زیادہ ہو گیا۔(طعا الماء کے معنی ہیں بِطُغْيَانِهِمْ وَيُقَالُ طَغَتْ عَلَى الْخَزَّانِ پانی بہت چڑھ گیا۔) اور بالطاغية بوجہ حد سے كَمَا طَغَى الْمَاءُ عَلَى قَوْمِ نُوحٍ۔گزرنے کے کہتے ہیں۔نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ (طاغية اس لئے کہا کہ) وہ داروغوں کے کہنے میں نہ رہی۔جیسا کہ پانی قوم نوح پر اس قدر چڑھ آیا تھا کہ وہ قابو سے باہر ہو گیا۔تشریح: القاضية کے معنی ہیں پہلی موت جو مجھ پر آئی، پھر اس کے بعد زندہ ہوں گا۔پوری آیت یہ ہے : لِليْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ (الحاقة : ۲۸) کاش! میری موت مجھے بالکل ختم کر دیتی۔( ترجمہ تفسیر صغیر) امام ابن حجر کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کاش میری پہلی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور اس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۴۷) مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِينَ یعنی پھر کوئی بھی اس سے بچانے والا نہ ہو گا۔فرمایا: فَمَا مِنْكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حجزين (الحاقة: ۴۸) سو اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا جو اُسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا۔(ترجمہ تفسیر صغیر) احد کا لفظ واحد ، تثنیہ ، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۴۷) اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والے کو نہ ایک نہ دونہ جتھہ نہ مرد نہ عورتیں غرض