صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 284
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۴ ۶۵ - کتاب التفسيران والقلم بیٹھ جانا کوئی اور ہی حقیقت رکھے گا۔ان مثالوں میں دیکھ لو۔بیٹھنا ایک صفت مگر بلحاظ تبذل موصوفین کے اس صفت کی ایک قسم دوسری قسم سے بالکل علیحدہ ہے اب ان سب سے ایک لطیف بیٹھنا سنو جس کی حقیقت ان تمام بیٹھنوں سے بالکل الگ ہے وہ بیٹھنا کیا ہے۔کسی کی محبت کا کسی کے دل میں بیٹھ جانا اور کسی کی عداوت کا کسی کے دل میں بیٹھ جانا۔کسی کے کلام کا کسی کے دل میں گھر کر لینا یا بیٹھ جانا۔جب اہلِ اسلام نے باری تعالیٰ کو لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشورى: ۱۲) انو پیم۔بے مانند مانا ہے تو اس بات کا تسلیم کرنا ہر عاقل منصف کا فرض ہے کہ وہ اس کی تمام صفات بھی اس پاک موصوف کی طرح کیس کھیل اور انو پیم، بے مانند مانتے ہوں گے۔اس کی قدرت، اس کی طاقت، اس کا علم ، اس کی حیات، اس کا موجود ہونا، اس کا ازلی ہونا، اس کا ابدی ہونا، اس کا ید ، اس کا وجہ ، اس کی ساق، اس کا کشف، اس کا عرش پر بیٹھنا سب بے مثل ہو گا۔چونکہ ہم اس کی ذات سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے۔اس لئے ہماری کوئی صفت اس کی کسی صفت سے مشابہ نہ ہوگی۔" ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۱۸۳ تا ۱۸۶)