صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 283
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۳ ۶۵ - کتاب التفسيران والقلم ہیں۔يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقِ کے معنے یہ ہوئے۔جس دن اشیاء کی اصل حقیقت ظاہر ہوگی اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات کے منکر اپنی نافرمانیوں کا بدلہ دیکھیں گے۔۔۔اس وقت اتماماً للحجة پھر سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے مگر پہلی نافرمانی کا بد نتیجہ یہ ہو گا کہ اس وقت سجدہ نہ کر سکیں گے۔تیسری توجیہہ اس آیت شریف کی یہ ہے کہ ہر ایک چیز کی پہچان مختلف اسباب سے ہوا کرتی ہے۔مثلاً کوئی شخص ایک آدمی کو اس کا منہ دیکھ کر پہچان سکتا ہے اور سابقہ جان پہچان والا ادنی نشان جیسے قدم اور ساق کو دیکھ کر پتہ لگا اسی طرح ایک سمجھدار، صحیح الفطرت، صاحب دانش ادنی اونی امور سے باری تعالٰی کے وجود اور اس کی ہستی کا پتہ حاصل کر سکتا ہے۔سکتا۔ہے۔برگ درختان سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفتر معرفتِ کردگار اور کم فہم مریض الفطرت کو عمدہ عمدہ دلائل سے بھی معرفت الہی حاصل نہیں ہو سکتی۔اسی طرح ہنگامہ محشر کے وقت جو اسی موجود دنیا کا نتیجہ ہے۔جب الہی صفات کا ظہور ہو گا تو نا سمجھ اپنی کمی معرفت اور نقص عرفان کے باعث بخلاف سمجھ داروں کے سجدہ سے محروم رہ جاویں گے۔اور اسلام والے اپنے عرفان اور ایمانی نور کے باعث ادنی ظہور صفات پر جسے کشف ساق کہتے ہیں۔جو کشف وجہ سے کم ہے سجدہ میں گریں گے اور منافقوں نافہموں کی پیٹھ اس وقت طبق واحد ہو جائے گی۔چوتھی تو جیہہ جو بالکل میرے مسلک پر ہے یہ ہے: ساق اور اس کا کشف، باری تعالیٰ کی صفت ہے اور صفات کا معاملہ ایسا ہے کہ ان کی حقیقت ہمیشہ بلحاظ اپنے موصوف کے بدل جایا کرتی ہے مثلاً بیٹھنا ہماری صفت ہے جس سے ہم ہر روز متصف ہوتے ہیں۔مگر ایک بڑے ساہو کار یا کسی امیر کا عروج کے بعد بیٹھ جانا ہمارے روز مرہ کے بیٹھ جانے سے نرالا ہو گا۔برسات کے دنوں میں مینہ کے زور سے دیوار کا بیٹھ جانا پہلے بیٹھنوں سے بالکل الگ ہو گا۔اور ایک بادشاہ کا تخت پر