صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 282 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 282

صحیح البخاری جلد ۱۲ Par ۶۵ - کتاب التفسيران والقلم سے پہلے ) جب بھلے چنگے تھے۔سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے۔الشاق: عربی میں شدت اور تکلیف کو کہتے ہیں اور کشف السّاق شدت اور تکلیف کا ظہور ہے۔پس يَوْمَ يُكشَفُ عَنْ سَاقی کے معنے ہوئے جب شدت اور تکلیف کا ظہور ہو گا۔ان معنوں کا ثبوت علاوہ لغت عرب کے قرآنِ کریم سے دیا سكتة جاتا ہے۔كَلاَ إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ وَ ظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالتَقَتِ السَّاقُ بِالسَّاقِه إلى رَبَّكَ يَوْمَينِ الْمَسَاقُ (الدھر: ۲۷ تا ۳۱) ایسا نہ ہو گا۔جس وقت سانس پنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے۔کون افسوس کرنے والا ہے (جو اسے اب بچالے) اور (مریض ) یقین کرتا ہے کہ اب جدائی کا وقت ہے اور سخت گھبراہٹ اس پر طاری ہوتی ہے ،اس وقت چلنا تیرے رب کی طرف ہے۔۔۔اور جب جنگ کی شدت ہوتی ہے تو کہتے ہیں كَشَفَتِ الْحَرْبُ عَنْ سَاقٍ یعنی گھمسان کا رن واقع ہوا۔اب اس تحقیق پر آیت شریف کا یہ مطلب ہوا کہ جب عبادت کے کمزور کو مرض موت کی شدت انتہا درجہ کو پہنچ جاتی ہے اور بڑا، بوڑھا یا ناتواں زار و نزار ہو جاتا ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلانے والے موذن نے حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الفلاح کا کلمہ اونچے منار سے بلند آواز کے ساتھ پکار سنایا۔اور وہ میٹھی آواز سلیم الفطرت ناتواں کے کان میں پہنچی۔اب اس کا دل مسجد کو جانے کے لئے تڑپتا ہے۔مگر اس وقت وہ مرنے کی حالت میں مبتلا اچھی طرح ہل جل بھی نہیں سکتا اور دل میں کڑھتا ہے مگر اب اس کڑھنے سے قوی نہیں ہو جاتا۔اسی آیت شریف میں وَقَدْ كَانُوا يُدعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ کے ، وَهُم سُلِمُونَ کا کلمہ ان معنے کا قرینہ موجود ہے۔جس کے معنی ہیں ”اور تحقیق وہ لوگ بلائے جاتے تھے سجدہ کی طرف جبکہ بھلے چنگے تھے“ ان معنی کی تصدیق تفسیر کبیر کے جلد نمبر ۸ صفحہ ۲۷۴ سے بخوبی ہو سکتی ہے۔دوسری تو جیہ۔اس آیت شریف کی السَّاقُ ذَاتُ الشَّي وَحَقِيقَةُ الْأَمْرِ۔کیا معنی؟ ساق کا لفظ عربی زبان میں کسی چیز کی ذات اور اس کی اصل حقیقت کو کہتے (امام رازی کی تفسیر کبیر مراد ہے۔)