صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 281 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 281

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۱ ۶۵ - کتاب التفسيران والقلم جواب درج ذیل ہے: مکذب براہین نے تکذیب کے صفحہ ۶۹ میں قرآن شریف کی آیت یوم يُكْشَفُ عَنْ سَاقِ کو صانع عالم کی ہستی کی دلیل سمجھ کر یہ اعتراض کیا ہے۔ خدائے بے چون و چرا محمدیوں کو کہتا ہے : میں قیامت کے روز تم کو دیدار دوں گا اور تم نہیں مانو گے۔ اور پھر میں تمہارے اصرار کرنے پر پنڈلی سے جامہ اٹھا کر بتلاؤں گا تب تم سجدہ میں گرو گے۔ جائے تعجب اور حیرت ہے۔ خدا تعالیٰ بسبب زود رنجی کے جامہ سے باہر ہوا جاتا ہے۔ اور نہیں شرماتا۔ وو مصدق : تمام اعتراض از سر تا پا افتراد بہتان اور راستی سے بے نام و نشان ہے۔ اول اس لئے کہ اگر معترض ہی کا وہ ترجمہ مان لیا جاوے جو خود معترض نے اس آیت کے نیچے لکھا ہے ”جس روز جامہ اٹھایا جاوے گا پنڈلی سے اور بلائے جاویں گے لوگ واسطے سجدہ کرنے کے۔ پس نہ کر سکیں گے“ (تکذیب صفحہ نمبر ۶۸) جب بھی اس ترجمہ سے وہ باتیں نہیں نکلتیں جو مکذب براہین نے اپنے اعتراض میں بیان کی ہیں۔ مثلاً نمبرا ” تم کو دیدار دوں گا “ نمبر ۲ ۲ ” اور تم نہیں مانو گے" نمبر ۳ ” پھر میں تمہارے اصرار پر نمبر ۴ ” تب تم سجدہ میں گرو گے“ نمبر ۵" زو در نجی" نمبر ۶ ” نہیں شرماتا ۔ تعجب و وحیرت ہے فَلَا يَسْتَطِيعُونَ کے معنے مکذب نے یہ لکھے ہیں۔ ”پس نہ کر سکیں گے “ اور اعتراض میں مکذب نے لکھا ہے ” تب تم سجدہ میں گرو گے“ آریہ صاحبان ! انصاف کرو اور سچ کے اختیار کرنے میں دیر نہ کرو۔ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ( اب میں آپ کو اس آیت کی بقدر ضرورت تشریح سناتا ہوں اور آیت کا مابعد بھی ساتھ ہی بیان کرتا ہوں) یوم يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَ يُدْعَونَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ وَقَدْ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَلِمُونَ (القلم : ۴۳) جس وقت سخت اضطراب کا وقت ہو گا اور سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے۔ پس ان کو سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو گی۔ اُن کی آنکھیں ( مارے ضعف و دہشت) کے بے نور ہو گئی ہوں گی۔ ذلت نے انہیں ڈھانک رکھا ہو گا۔ اور ( اس حالت