صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 280 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 280

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۸۰ ۶۵ - کتاب التفسيران والقلم ضعیف الرائے اور ذلیل آدمی ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اور سخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والا اور نیکی کی راہوں سے روکنے والا زنا کار اور بائیں ہمہ نہایت درجہ کا بد خلق اور ان سب عیبوں کے بعد ولد الزنا بھی ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۳ حاشیہ صفحہ ۱۱۶، ۱۱۷) بَاب ٢ : يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ( القلم : ٤٣) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) جس دن مصیبت کا وقت آجائے گا ٤٩١٩ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ۴۹۱۹: آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي ليث بن سعد) نے ہمیں سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ یزید سے، خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے ، عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عطاء نے حضرت ابو سعید (خدری) رضی اللہ عنہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ہمارا رب اپنی وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِئَاءَ پنڈلی تنگی کرے گا جس پر ہر مومن مرد اور مؤمن وَسُمْعَةً فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُودُ عورت اس کو سجدہ کرے گا اور وہی باقی رہ جائے گا ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا۔ جو دنیا میں ریا اور شہرت کی خاطر عبادت کرتا تھا۔ وہ سجدہ کرنے لگے گا تو اس کی پیٹھ اکٹڑ کر ایک تختہ ہو جائے گی۔ أطرافه: ۲۲، ٤٥٨١ ، ٦٥٦٠، ٦٥٧٤، ٧٤٣٨، ٧٤٣٩۔ تشريح : يَوْمَ يُكْشَفُ عَن ساقی : یعنی جس دن مصیبت کا وقت آجائے گا۔ حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: يُكْشَفُ عَنْ سَاقِ یہ ایک محاورہ عربی زبان کا ہے اور اس کے معنے ہیں جب حقیقت کھل جائے گی یا جب بہت گھبراہٹ ہو گی۔ بعض تفاسیر کے بیان کردہ معانی کی بناء پر اس آیت پر آریوں اور عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے جو کہ بمع