صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 279
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۷۹ ۶۵ - کتاب التفسيران والقلم كُلُّ ضَعِيفٍ مُّتَضَعِفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی تمہیں جنتی نہ بتاؤں؟ ہر غریب، انکساری کرنے اللَّهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ والا ، جو اگر اللہ کو بھی قسم دے تو وہ اس کی قسم کو عُتُلٍ جَوَاطٍ مُسْتَكْبِرٍ۔ أطرافه: ٦٠٧١ ، ٦٦٥٧- پورا کر دے۔ کیا میں تمہیں دوزخی نہ بتاؤں؟ ہر ایک اکھڑ ، اُجڈ ، اینٹھ کر چلنے والا مغرور۔ تشریح : عُتُلٍ بَعدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ : اکھڑ، اس کے بعد مشتبہ النسل۔ اس آیت کے نزول کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے۔ بعض نے اس سے مراد اسود بن عبد یغوث کو لیا ہے، بعض نے اخنس بن شریق کو مراد لیا ہے۔ ایک شاعر نے کہا: زَلِيمٌ لَيْسَ يُعْرَفُ مَنْ أَبُوهُ یعنی زنیم وہ ہے جس کے باپ کا نہ پتہ ہو۔ حضرت حسان بن ثابت نے کہا: وأنتَ زَنِيمُ نِيطَ فِي آلِ هَاشِم یعنی اور تم زنیم ہو آلِ ہاشم سے ( باعتبار نسل ) بہت دور ہو۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۸۴۵) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” قرآن مجید میں زنیم کا لفظ ہے جس کے معنے ہوتے ہیں کہ وہ شخص جو کسی قوم کا فرد تو نہیں مگر اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتا ہے۔ (مفردات) ہم نے اس کا ترجمہ ”خدا کا بندہ ہو کر شیطان سے تعلق رکھتا ہے “ کیا ہے۔ یعنی ہے تو وہ خدا کا مگر اپنے آپ کو منسوب بتوں کی طرف کرتا ہے۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ( تفسیر صغیر، سورۃ القلم حاشیه آیت (۱۴) ولید (بن) مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے : فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ ) وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَافٍ مَّهِينٍ هَمَّازٍ مَشَاءِ سورة بِنَمِيمٍ مَنَاعِ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ ۔۔۔ دیکھو القلم جزو نمبر ۲۹ یعنی تو ان مکذبوں کے کہنے پر مت چل جو بدل اس بات کے آرزومند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو بُرا مت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجو مت کرو تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے اور ان کی چرب زبانی کا خیال مت کرو یہ شخص جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا اور