صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 278 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 278

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۷۸ ۶۵ - کتاب التفسيران والقلم باغ کو دیکھنے آئے تو انہیں یوں لگا کہ ہم راستہ بھول کر کسی اور جگہ آگئے ہیں کیونکہ وہاں باغ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ (عمدة القاری جزء ۱۹ صفحه ۲۵۵) كَالصَّرِیمِ کے معنی ہیں صبح کی طرح جو رات سے کٹ کر الگ ہو گئی اور رات کی طرح جو دن سے کٹ کر الگ ہو گئی۔ فرمایا: فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ ( القلم : ۲۱) یعنی جب صبح کے وقت دیکھا گیا تو وہ باغ ایسا ہی ہو گیا جیسے کٹا ہوا تھا۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یعنی ان کفار کا انجام اس باغ کی تمثیل کے مطابق ہو گا اور اپنے اعمال کے نتیجہ سے یہ محروم رہیں گے ۔ “ ( تفسیر صغیر، سورۃ القلم حاشیہ آیت ۲۱) بَاب ۱ : عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ (القلم : ١٤) اللہ تعالی کایہ فرمانا ) آکھڑ، اس کے بعد مشتبہ النسل ٤٩١٧: حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا ۴۹۱۷: محمود ( بن غیلان ) نے ہم سے بیان کیا کہ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ (بن یونس) سے، اسرائیل نے ابو حصین ( عثمان بن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عُتُلٍ بعد عاصم) سے ، ابو حسین نے مجاہد سے مجاہد اہد سے ، مجاہد نے حضرت ذلِكَ زَنِيمٍ (القلم : ١٤) قَالَ رَجُلٌ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ عقل بَعْدَ ذَلِكَ زَلِيمٍ (جو آیت ہے اس کے بارے مِنْ قُرَيْشٍ لَهُ زَنَمَةٌ مِثْلُ زَنَمَةِ الشَّاةِ۔ میں) انہوں نے کہا: اس سے مراد قریش میں سے ایک آدمی تھا۔ جس کا بکری کے کان کی لوکی طرح گوشت کا ایک ٹکڑا لٹک رہا تھا۔ ٤٩١٨ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۴۹۱۸: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ مَّعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ (توری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معبد بن خالد سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبِ الْخُزَاعِيَّ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حارثہ بن وہب خزاعی سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ نے فِي عَلی ایم سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: کیا میں صا الله س