صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 277 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 277

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۷۷ ۶۵ - کتاب التفسيران والقلم خرد کے معنی ہیں ایسی کوشش جو اپنے دل کی عزیمت سے ہو۔ فرمایا: وَغَدَوا عَلَى حَرْدٍ قَدِرِينَ (القلم : ٢٦) یعنی اور صبح آنے سے پہلے وہ بخل کا فیصلہ کر چکے تھے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) امام ابن حجر لکھتے ہیں: امام بخاری نے حردٍ کی تفسیر کی ہے کہ کسی کام میں بہت زیادہ مبالغہ سے کوشش کرنا۔ علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ بعض اصول کے مطابق یہ لفظ جدا ہے۔ جیسا کہ امام عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ایک شخص کا ایک باغ تھا۔ وہ سال کے اخراجات رکھ کر باقی جو بچتا وہ صدقہ کر دیتا۔ اس کے بیٹے اسے صدقہ سے منع کرتے۔ جب ان کا باپ فوت ہو گیا تو وہ اس باغ میں صبح صبح گئے اور انہوں نے کہا کہ اب اس باغ سے کسی سائل کو کچھ نہیں دیں گے۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ یہ لوگ حبشہ کے تھے۔ ابو عبیدہ نے حدید کے معنی ارادہ، بخل، غضب اور کینہ کئے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۸۴۳) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کے حاشیہ میں فرماتے ہیں: انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنا مال اپنے لیے روکے رکھنے اور اس میں کسی کو شریک نہ بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔“ (تفسیر صغیر، سورۃ القلم حاشیہ آیت ۲۶) يَتَخَافَتُونَ کے معنی ہیں چپکے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور آہستہ بات کرتے ہیں۔ فرمایا: فَانْطَلَقُوا وَ هُمْ يَتَخَافَتُونَ (القلم: ۲۴) چنانچہ وہ چلے گئے اور وہ آہستہ آہستہ یہ کہتے جاتے تھے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) علامہ ابن حجر نے لکھا ہے: یہ تعلیق صرف ابوذر کے نسخہ میں ہے جبکہ دیگر نسخوں میں یہ کتاب التوحید میں ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۸۴۳) إِنَّا لَضَالُونَ کے معنی ہیں : جن کے معنی ہیں ہم اپنے باغ کی جگہ بھول گئے۔ فرمایا: فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُونَ (القلم :۲۷) یعنی پھر جب انہوں نے اس باغ کو دیکھا تو کہا ہم تو راستہ بھول آئے ہیں۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) علامہ عینی لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ہم اپنے باغ کی جگہ کو بھول گئے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے بھی اس کی یہی تفسیر کی ہے اور اس کے ساتھ اس آیت کو بیان کیا ہے: انا بَلَونَهُمْ كَمَا بَلَنَا أَصْحَبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِ مُنْهَا مُصْبِحِيْنَ (القلم: ١٨) یعنی ہم نے ان دشمنوں کو ایسے ہی ابتلا میں ڈالا ہے جس ابتلا میں ان باغوں والے لوگوں کو ڈالا تھا جنہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم صبح جاکر اپنے باغ کے پھل توڑیں گے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اہل مکہ کو قحط اور بھوک کے ابتلاء میں ڈال کر ان کی آزمائش کی جس طرح کہ ہم نے اس باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ یہ باغ یمن میں تھا اسے ضروان کہا جاتا تھا۔ اس باغ کے مالکوں نے کہا کہ وہ صبح ہونے سے پہلے اس باغ کو کاٹ لیں گے تاکہ کوئی سائل اس طرف نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے آگ برسائی جس نے اس باغ کو جلا دیا جبکہ وہ سوئے ہوئے تھے۔ صبح وہ اپنے