صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 7 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 7

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / الزمر کمال طاعت سے کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اس کا ہے۔جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اس کا غلام ہو جائے یعنی ایسا اس کی اطاعت میں محو ہو جاوے کہ گویا اس کا غلام ہے تب وہ گو کیسا ہی پہلے گناہ گار تھا بخشا جائے گا۔جاننا چاہیئے کہ عبد کا لفظ لغت عرب میں غلام کے معنوں پر بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: وَلَعَبدُ مُؤْمِنَّ خَيْرٌ مِّنْ مُشْرِك - - (البقرۃ: ۲۲۲) اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن طاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا۔اس مقام میں اُن کو رباطن نام کے موحدوں پر افسوس آتا ہے کہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاں تک بغض رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ نام که غلام نبی، غلام رسول، غلام مصطفی، غلام احمد ، غلام محمد شرک میں داخل ہیں۔اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ مدار نجات یہی نام ہیں۔اور چونکہ عبد کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہر ایک آزادگی اور خودروی سے باہر آجائے اور پورا متبع اپنے مولیٰ کا ہو۔اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا کریں۔اور در حقیقت یہ آیت اور یہ دوسری آیت قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ (آل عمران: ۳۲) که از رو مفہوم کے ایک ہی ہیں۔کیونکہ کمال اتباع اس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے۔یہی سر ہے کہ جیسے پہلی آیت میں مغفرت کا وعدہ بلکہ محبوب الہی بننے کی خوشخبری ہے گویا یہ آیت کہ قُلْ يَا عِبَادِی دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قُلْ يَا مُتَّبعی یعنی اے میری پیروی کرنے والو جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہو رہے ہو رحمت الہی سے نومید مت ہو کہ اللہ جل شانہ به برکت میری پیروی کے تمام گناہ بخش دے گا۔۔۔اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور یقیناً ایک مومن غلام ایک (آزاد) مشرک سے بہتر ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔“