صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 276 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 276

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۷۶ ۶۵ - كتاب التفسيران والقلم ٦٨ - سُورَةُ انَ وَالْقَلَمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن اور رحیم ہے وَقَالَ قَتَادَةُ حَرْدٍ (القلم : ٢٦) جِد اور قتادہ نے کہا: حرد کے معنی ہیں ایسی کوشش فِي أَنْفُسِهِمْ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جو اپنے دل کی عزیمت سے ہو۔ اور حضرت يَتَخَافَتُونَ ( القلم : ٢٤) يَنْتَجُونَ ابن عباس نے کہا: يَتَخَافَتُونَ کے معنی ہیں چپکے السِّرَارَ وَالْكَلَامَ الْخَفِيَّ۔ وَقَالَ ابْنُ سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور آہستہ بات کرتے عَبَّاسٍ إِنَّا لَضَالُونَ (القلم: ۲۷) أَضْلَلْنَا ہیں۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا: انا الضَّالُونَ مَكَانَ جَنَّتِنَا ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ كَالصَّرِيمِ کے معنی ہیں ہم اپنے باغ کی جگہ بھول گئے۔ اور حضرت ابن عباس کے سوا اوروں نے کہا: (القلم: ٢١) كَالصُّبْحِ انْصَرَمَ مِنَ اللَّيْلِ وَاللَّيْلِ انْصَرَمَ مِنَ النَّهَارِ وَهُوَ الصَّرِيمِ کے معنی ہیں صبح کی طرح جو رات سے کٹ کر الگ ہو گئی اور رات کی طرح جو دن سے أَيْضًا كُلُّ رَمْلَةِ انْصَرَمَتْ مِنْ مُّعْظَمِ کٹ کر الگ ہو گئی۔ اور خیر یہ ہر ایک ایسی ریتی الرَّمْلِ۔ وَالصَّرِيمُ أَيْضًا الْمَصْرُومُ مِثْلُ کو کہتے ہیں جو ریت کے بڑے ٹیلے سے کٹ کر قَتِيلٍ وَمَقْتُولٍ۔ الگ ہو گئی ہو۔ اور صریح کے معنی کئے ہوئے کے بھی ہیں جیسے قتیل اور مَقْتُول۔ سُورَةُ نَ وَالْقَلَمِ : حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تشریح : شو یہ سورت حروف مقطعات سے شروع ہونے والی آخری سورت ہے۔ یہ سورت لفظ ”ن“ سے شروع ہوتی ہے جس کا ایک معنی دوات کا ہے اور قلم سے لکھنے والے تمام اس کے محتاج رہتے ہیں۔ اور انسان کی تمام ترقیات کا دور قلم کی بادشاہی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر انسانی ترقی میں سے تحریر کو نکال دیا جائے تو انسان جہالتوں کی طرف لوٹ جائے اور پھر کبھی اسے کوئی علمی ترقی نصیب نہیں ہو سکتی ۔ اس سورت میں حرف ”ن“ کا تکرار کے ساتھ ذکر ہے جو اس سورت کے مضامین سے کامل مطابقت رکھتا ہے اور ایک جگہ بھی مضمون اور حرف ن میں کوئی بے جوڑی دکھائی نہیں دیتی۔ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورة القلم صفحه ۱۰۶۰)